فلسطینی وزیر برائےامور اسیران ڈاکٹر عطاء اللہ ابو السبح نے ملک کی تمام عسکری تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیلی جیلوں میں زیرحراست اپنے پیاروں سے اظہار یکجہتی اور ان کے خلاف جاری
مظالم کی روک تھام کے لیے صہیونی تنصیبات پر حملے کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل صرف طاقت کے زبان جانتا ہے اور فلسطینی مجاہدین کو چاہیے کہ وہ صہیونی دشمن کو بتائیں کہ وہ طاقت کا استعمال جانتے ہیں۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اپنے ایک بیان میں فلسطینی وزیر اسیران نے کہا کہ اسرائیل نے بدنام زمانہ عقوبت خانہ”عسقلان”میں حماس اور دیگر تنظیموں کے محروس اراکین کے ساتھ جو شرمناک سلوک روا رکھا ہے وہ ناقابل برداشت ہے۔ اسرائیل کی فلسطینی اسیران کے خلاف جارحیت اورمظالم میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے ہم اس شرمناک طرز عمل کو زیادہ دیر تر برداشت نہیں کر سکتے۔
فلسطینی وزیرعطاء اللہ ابو لسبح نے کہا کہ اسرائیلی فوج اور تفتیش کاروں نے آٹومیٹکل آلات، اسلحہ، تفتیشی کتوں اور دیگرذرائع سے محروسین کی تلاشی کی جو مہم شروع کی ہے وہ نہایت شرمناک ہے۔ قیدیوں کو بارش اور سخت سردی میں بارہ بارہ گھنٹے تک کھڑا رکھنا عالمی انسانی حقوق اور بنیادی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے اسیرھناء الشلبی کا خاص طور پر ذکر کیا اور ان سے مکمل اظہار یکجہتی کیا جو مسلسل سولہ روز سے بھوک ہڑتال جاری رکھے ہوئے ہیں۔
وزیرامور اسیران نے اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” اور دیگر مذہبی جماعتوں کے زیرانتظام عسکری تنظیموں پرزور دیا کہ وہ قیدیوں پر مظالم بند کرانے کے لیے اسرائیلی فوج اور صہیونی ریاست کی تمام تنصیبات پرحملے کریں اور انہیں تباہ کرنے کے لیے تمام وسائل کا کھلے عام استعمال کریں۔
انہوں نے اسرائیلی جیل میں چھیاسٹھ دن تک مسلسل بھوک ہڑتال کرنے والے فلسطینی اسیر ہیرو کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا اور تمام اسیران کو ملک کے پہلی دفاعی لائن قرار دیا۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

