فلسطین میں مختلف مسالک کےعلماء پر مشتمل اتحاد کے سربراہ شیخ حامد البیتاوی کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے بیت المقدس کو”نیم یہودی” شہر بنا دیا ہے اورعالم اسلام صرف زبانی دعوے اور باتیں کررہا ہے۔
انہوں نے عالم برادری بالخصوص عالم اسلام پر زور دیا کہ وہ مسجد اقصیٰ اور بیت المقدس کو بچانے کے لیے اپنی طاقت کو مجتمع کریں۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق ممتاز فلسطینی عالم دین شیخ البیتاوی نے ایک عرب خبر رساں ایجنسی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ” بیت المقدس کی آزادی تمام عرب اور مسلمان اقوام کی گردنوں پر ہے۔ انہوں نے دوحہ میں جاری دفاع القدس کانفرنس کے شرکاء سے مطالبہ کیا کہ وہ باتیں اور زبانی منصوبے بنانے اور خلاء میں محل تعمیر کرنے کے بجائے زمین پراتریں۔ شیخ البیتاوی نے کہا کہ قطرمیں بیت المقدس کی آزادی کے لیے پوری دنیا سے350 وفود اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ مسلم دنیا بیدار ہو رہی ہے۔ لیکن حقیقی بیداری اس وقت دیکھی جائے گی جب مسلم دنیا بیت المقدس کو پنجہ یہودی سے آزاد کرانے کے لیے اپنی طاقت کا اظہار کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین کی آزادی اور مظلوم عوام کوحقوق دلوانے کے لیے باتیں بہت ہوچکیں۔ دنیا کے بڑے بڑے اداروں نے فلسطینیوں کی حمایت میں قرار دادیں بھی منظور کردیں لیکن اب ان تمام اقدامات کوعملی شکل دینے کی ضرور ت یے۔
فلسطینی عالم دین نے کہا کہ بیت المقدس کے بغیر فلسطین کی کوئی حیثیت نہیں اور مسجد اقصیٰ کے بغیر بیت المقدس ادھورا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں شیخ حامد البیتاوی کا کہنا ہے کہ قابض دشمن ریاست نے مسلمانوں کے اس مقدس شہر کو یہودی آباد کاری کے ذریعے نیم یہودی شہرمیں تبدیل کرکے رکھ دیا ہے۔ شہر کے اصلی باشندوں مسلمانوں اور عربوں کو وہاں سے جبری بے دخل کرکے ان کی جگہ یہودی بسائے جاتے ہیں۔ مغربی کنارے سے شہر کو کاٹ کر رکھ دیا گیا ہے اور مغربی کنارے کا کوئی شہر مسجد اقصیٰ میں حاضری کے لیے نہیں جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ بیت المقدس کا دفاع کانفرنسوں کے انعقاد اور جلسوں سے نہیں ہوسکتا، اس کے لیے مسلم دنیا کو ایک مرتبہ پھرعمر بن خطاب اور صلاح الدین ایوبی کی طرح تلوارہاتھ میں اٹھانا ہوگی۔ سلامتی کونسل، جنرل اسمبلی اور اقوام متحدہ کی تمام دیگر تنظیموں سمیت تمام عالمی ادارے فلسطینیوں کو ان کے حقوق دلوانے میں بری طرح ناکام ہوچکے ہیں۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

