فلسطین میں اسلامی مقدسات کے تحفظ بالخصوص بیت المقدس کی حفاظت کے لیے سرگرم تنظیم”انٹرنیشنل القدس فاؤنڈیشن” نے خبردار کیا ہے کہ یہودی انتہا پسندوں کے مسجد اقصیٰ پر تازہ حملے قبلہ اول کو تقسیم کرنے کی سازش ہے۔
یہودی مسجد اقصیٰ کو بھی اسی طرح مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان تقسیم کرنا چاہتے ہیں جس طرح انہوں نے مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر الخلیل میں تاریخی مسجد ابراہیمی کو دونوں مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان تقسیم کیا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق القدس فاؤنڈیشن کی ڈائریکٹر برائے اطلاعات و معلومات عامہ ھشام یعقوب نے ایک بیان میں کہا ہے کہ گذشتہ کچھ عرصے سے مسجد اقصیٰ پر یہودیوں کے حملوں کی تازہ لہر پیش آئند ایام کے دوران قبلہ اول کے لیے ایک بڑے خطرے کی گھنٹی ہے۔ انتہا پسند یہودیوں کے مسجد اقصیٰ پرغیرمعمولی حملےاس بات کا بین اشارہ ہیں وہ آئندہ ایام میں قبلہ اول کو تقسیم کرنے یا اسے کسی بھی دوسری طرح نقصان پہنچانے کی سازش کریں گے۔
ھشام یعقوب کا کہنا تھا کہ عرب ممالک میں جاری سیاسی تبدیلیوں کے جلو میں انتہا پسند یہودیوں نے مسجداقصیٰ پر دست درازی کے لیے موقع غنیمت جانا ہے۔ یہودیوں کا خیال ہےکہ وہ عرب ممالک سیاسی مصروفیات اور ان کی فلسطین کی جانب عدم توجہی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مسجداقصیٰ کو تقسیم کر لیں گے۔
ھشام یعقوب کا کہنا تھا کہ بات صرف اسرائیل کے انتہا پسندعناصر کی نہیں بلکہ صہیونی عدالتیں، فوج ،حکومت اور پولیس بھی شدت پسندوں کی سپورٹ کر رہی ہے اور وہ مل کر قبلہ اول پر یلغار کیے ہوئے ہیں۔ حالیہ کچھ روز سے یہ دیکھا جا رہا ہے کہ فلسطین میں پھیلے یہودی بڑی تعداد میں مسجد اقصیٰ میں جمع ہوکر نام نہاد مذہبی رسومات کی ادائیگی کی آڑ میں مسلمانوں کے اس مقدس مقام کی بے حرمتی کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیلی عدالتوں کی طرف سے انتہا پسند یہودیوں کو کھلی اجازت دی گئی ہے کہ وہ مسجد اقصیٰ میں جمع ہو کر اس کی حرمت اورتقدس کو پامال کریں جبکہ مسلمانوں کومسجداقصیٰ میں داخلے سے قبل ہی حراست میں لے لیا جاتا ہے جس سے صہیونیوں کے قبلہ اول کے خلاف اکٹھ ثابت ہو گیا ہے۔
ھشام یعقوب کا کہنا تھا کہ آئندہ اتوار کو دوحہ میں عرب لیگ کی دعوت پر القدس انٹرنیشنل کانفرنس کا انعقاد کیا جا رہا ہے جس میں یہودیوں کے ہاتھوں مسجد اقصیٰ کی پامالی کے بڑھتے واقعات کی روک تھام کے لیے لائحہ عمل مرتب کیا جائے گا۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

