فلسطینی شہرغزہ کی پٹی میں حکمراں جماعت اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” کے وزیراعظم اسماعیل ھنیہ نے کہا ہے کہ فلسطین میں قومی حکومت کے سلسلے میں صدر محمودعباس اور خالد مشعل کے مابین طے پائے "دوحہ اعلامیے” پر حماس کی قیادت میں کوئی اختلاف نہیں۔
البتہ دشمن حماس کی قیادت کو اس سلسلے میں تقسیم کرنے کی سازش کر رہا ہے۔ حماس کی قیادت میں اختلافات کی افواہیں دشمن کا حماس کےخلاف پروپیگنڈہ ہے جس کا مقصد فلسطین میں قومی حکومت کے قیام اور فلسطینیوں کے مابین اتحاد کی راہ روکنا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اسماعیل ھنیہ نے ان خیالات کا اظہار کویت کے دورے کے دوران کویتی ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ دشمنوں کی سازشوں کے باوجود حماس کی قیادت میں کوئی اختلافات پیدا نہیں ہو سکتے اور نہ ہی قومی حکومت کے قیام کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے والوں کو کامیابی ملے گی۔ قومی حکومت جلد قائم ہو گی اور دشمن ناکام ہوں گے۔
فلسطینی جماعت حماس اور فتح کےدرمیان جاری مفاہمتی بات چیت کے بارے میں اسماعیل ھنیہ کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت نے مفاہمت کے باب میں جتنی فراخ دلی اور لچک کا مظاہرہ کیا ہے۔ کسی دوسری جماعت اس کا عشرعشیر بھی نہیں کرسکی، انہوں نے غزہ کی پٹی میں اپنی حکومت کی جانب سے فتح کےساتھ مفاہمت کے سلسلے میں اٹھائے گئے اقدامات کا بھی تذکرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ غزہ کی حکومت نے فتح کو صدر محمودعباس کی رہائش بھی حوالے کر دی۔ الیکشن کمیشن کےمرکزی آفس کے علاوہ اس کی چھ مزید ذیلی شاخوں کے قیام کے لیے بھی فتح کو اجازت دے دی گئی۔ اس کے علاوہ فتح کے تمام زیرحراست قیدیوں کورہا کر دیا گیا۔ سب سے بڑھ کریہ کہ دوحہ ملاقات میں حماس کے رہ نما خالد مشعل نے صدر محموعباس کو قومی حکومت کا سربراہ منتخب کرنے کی بھی حمایت کی۔ حماس اس سے زیادہ کس حد تک لچک کا مظاہرہ کرے۔ اس کے جواب میں مغربی کنارے میں ہمارے ساتھ انتقامی پالیسی کا تسلسل برقرار ہے۔
کویتی ٹی وی کے ایک سوال کے جواب میں اسماعیل ھنیہ کا کہنا تھا کہ فلسطین میں صدر محمود عباس کے سربراہی میں قائم ہونے والی قومی حکومت اگرچہ محدود ہو گی لیکن اس کی ذمہ داریاں بہت زیادہ ہوں گی۔ قومی حکومت غزہ کی پٹی کی معاشی ناکہ بندی کے خاتمے کی نگران ہو گی۔ جنگ سے تباہ حال شہر کی تعمیر کی دیکھ بحال اس کے ذمہ ہوگی۔ غزہ اور مغربی کنارے میں نئے سیکیورٹی ڈھانچے کی تیاری، فلسطین میں پارلیمانی اور صدارتی انتخابات کی تیاری اور فلسطینی قومی کونسل کی تشکیل نو جیسے اہم کام قومی حکومت ہی کی نگرانی میں ہوں گے۔
حماس اور ایک دوسری مزاحمتی تنظیم اسلامی جہاد کے درمیان تعلقات کے ضمن سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیراعظم ھنیہ کا کہنا تھا کہ "اسلامی جہاد اور حماس کے درمیان شروع دن سےگہرے نظریاتی مراسم پائے جاتے ہیں۔ دونوں جماعتیں سیاست اور مزاحمت کے میدان میں ایک دوسرے کی معاون اور مدد گار ہیں۔ مستقبل میں بھی ان دونوں جماعتوں کے درمیان تزویراتی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔

