فرانس میں قائم فلسطینی اتھارٹی کے سفارت خانے کا ایک نیا اور نہایت خطرناک اسکینڈل سامنے آیا ہے۔ ایک رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ پیرس میں قائم فلسطینی سفارت خانہ مختلف عرب ممالک اور دوسری عالمی خفیہ ایجنسیوں کے لیے جاسوسی میں ملوث ہے۔
رپورٹ کےمطابق سفارت خانہ مختلف طلباء و طالبات کو فلسطین کے اندر اور باہر کام کرنے والی دینی جماعتوں کی جاسوسی کے لیے استعمال کرتا رہا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اردن اور دیگرعرب ممالک کے اخبارات نے پیرس میں فلسطینی سفارتخانے کی جاسوسی کے اسکینڈل کی خبریں تواتر کے ساتھ شائع کرنا شروع کی ہیں۔
اردن کے عربی زبان میں شائع ہونے والے ایک موقراخبار”الغد” الاردنیہ” نے ذرائع کےحوالے سے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ رام اللہ میں فلسطینی صدر محمودعباس کے ماتحت کام کرنے والے پیرس کے ہائی کمیشن کی غیرملکی خفیہ ایجنسیوں کے لیے جاسوسی کے کئی اسکینڈل سامنے آئے ہیں۔ پیرس میں فلسطینی سفارت خانہ براہ راست کئی عرب ممالک اوردوسرے ملکوں کی خفیہ ایجنسیوں کے ساتھ رابطے میں ہے اور انہیں ان کی منشاء کے مطابق فلسطینی تنظیموں کے بارے میں خفیہ معلومات فراہم کر رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پیرس میں فلسطینی ہائی کمیشن کی جانب سے جاسوسی کے بارے میں فلسطینی اتھارٹی کے کئی اعلیٰ عہدیداروں کو بھی علم ہے تاہم وہ علم میں ہونے کے باوجود اس معاملے سے چشم پوشی سے کام لیتے ہیں۔ پیرس ہائی کمیشن کے اسکینڈل کے بارے میں ٹال مٹول سے کام لینے والوں میں پیرس میں فلسطینی اتھارٹی کے نائب سفیر صفوت ابراغیت،فلسطین نیشنل فنڈ کے چیئرمین رمزی خوری، رام اللہ میں سلام فیاض کی حکومت کے وزیرداخلہ ریاض المالکی ،پیریس میں فلسطینی ہائی کمیشنر ہائیل الفاھوم اور فتح کےخارجہ تعلقات کے نگران نبیل شعث کے نام بتائے جاتے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پیرس میں فلسطینی ہائی کمیشن کے ڈپٹی کمیشنر کو یہ ٹاسک سونپا گیا ہے کہوہ فرانس، عرب ممالک اور دیگرملکوں کی دینی جماعتوں کے بارے میں طلباء کے ذریعے معلومات اکھٹی کرے،چنانچہ فلسطینی ڈپٹی کمیشنر فرانس میں تعلیم کےحصول کے لیے آنے والے فلسطینی طلباء کو بلیک میل کر کےانہیں دینی جماعتوں کی جاسوسی کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ بعد ازاں ان معلومات کو مختلف عرب اور دیگرملکوں کی خفیہ ایجنسیوں کوفراہم کیا جاتا ہے۔
ذرائع کا یہ بھی کہنا ہےکہ پیرس میں فلسطینی ڈپٹی ہائی کمیشنر صفوت ابراغیت فلسطینی انٹیلی جنس کے بیرون ملک شعبے کے سابق چیف جہادتایہ کے سسر ہیں۔ جہاد تایہ کو سنہ 2006ء میں نامعلوم افراد نے قاتلانہ حملے میں قتل کر دیا تھا۔ مسٹرتایہ کے بارے میں یہ مشہور تھا کہ وہ بیرون ملک زیرتعلیم سیکڑوں فلسطینی طلباء کو اسرائیلی خفیہ ادارے موساد کے ذریعے قتل کرانے کا ذمہ دار تھا۔

