مقبوضہ فلسطین میں قابض صہیونی فوج کے ہاتھوں مجلس قانون ساز کے اسپیکر ڈاکٹر عزیز دویک کی گرفتاری کے بعد مقبوضہ بیت المقدس میں ریڈ کراس کے دفتر کے باہر احتجاجی کیمپ لگائے
اراکین قانون سازکونسل محمد طوطح اور خالد ابوعرفہ کی گرفتاری پر انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے سخت مذمت کی جا رہی ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیم”یورپی نیٹ ورک برائے انسانی حقوق” (Ufree) نے اپنے ایک تازہ بیان میں کہا ہے کہخالد ابوعرفہ اور محمد طوطح کی گرفتاری صہیونی ریاست کا سیاسی جرم ہے۔ اسرائیلی حکومت نے فلسطینی مجلس قانون ساز کے اراکین کو جیلوں میں حراست میں رکھ کر تمام جمہوری حقوق پامال کر دیے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ قوم کے منتخب نمائندوں کو گرفتار کر کے جیلوں میں ڈالنا بین الاقوامی معاہدوں اور عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ اس طرح کی غیرآئینی کارروائیوں کو فلسطینیوں کےخلاف انتقامی کارروائیاں قرار دیا جائےگا۔
خیال رہے فلسطینی اراکین قانون ساز کونسل محمد طوطح،خالد ابو عرفہ اور ان کے دو دیگر ساتھیوں کی سنہ 2010ء میں حماس کے سیاسی شعبے اصلاح وتبدیلی سے فلسطینی رکن قانون ساز منتخب ہونے کی پاداش میں بیت المقدس سے نکال باہر کرنے کی دھمکی دی گئی تھی۔ صہیونی حکومت کی اس دھمکی کے بعد ان چاروں اراکین نے بیت المقدس میں انسانی حقوق کی تنظیم "ریڈ کراس” کے دفترکے باہر احتجاجی دھرنا دیا تھا۔
دوسری جانب فلسطینی مجلس قانون سازمیں اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” کے پارلیمانی بلاک اصلاح و تبدیلی نے بھی خالد ابوعرفہ اور محمد طوطح کی گرفتاری کی شدید مذمت کی ہے۔ ایک بیان میں پارلیمانی بلاک کا کہنا ہے کہ خالد ابوعرفہ اور محمد طوطح کی گرفتاری کو سیاسی اغواء قرار دیا ہے۔
فلسطین میں انسانی حقوق کے لیے سرگرم ایک دوسری تنظیم نے بھی دونوں فلسطینی اراکین کی گرفتاریوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزری قرار دیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیم”مرکزبرائے حقوق اسیران” کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکومت نے فلسطینی پارلیمنٹ کے اراکین کو گرفتار کر کے بین الاقوامی جمہوری قوانین کی سنگین خلاف ورزی کی ہے۔ محمد طوطح اور خالد ابو عرفہ کی گرفتاری عالمی سطح پرکوششیں تیز کرنے اور تمام اسیران کی فوری رہائی کا تقاضا کرتی ہے۔
دھر اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” نے بھی صہیونی فوج کے ہاتھوں پیر کے روز خالدابوعرفہ اور محمد طوطح کی بیت المقدس سے گرفتاری کی شدید مذمت کی ہے۔ حماس کی جانب سے جاری ایک تازہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج کے ہاتھوں اراکین قانون ساز کونسل کی گرفتاریاں سیاسی قذافی کے زمرے میں آتی ہیں۔ حماس نے عرب لیگ اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری ایکشن لیتے ہوئے فلسطین کے منتخب نمائندوں کو جیلوں سے رہا کرانے کے لیے صہیونی ریاست پر دباؤ ڈالیں۔

