انسانی حقوق کی ایک بین الاقوامی تنظیم "یکجہتی فاؤنڈیشن برائے انسانی حقوق” نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی جیل حکام فلسطینی اسیران کو فلسطین بدری کی شرط پر انہیں رہا کرنے کے لیے بلیک میل کرتے ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیم کے مندوب احمد البیتاوی نے میڈیا کو بتایا انہیں کئی صہیونی جیلوں سے قیدیوں کے ساتھ ملاقاتوں کے دوران یہ معلوم ہوا کہ جیل انتظامیہ اور داخلی سلامتی کے صہیونی ادارے”شاباک” کے عہدیداروں نے انہیں یہ پیشکش کی ہے کہ اگر وہ رہائی کے بعد بیت المقدس، مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی میں رہنے کے بجائے بیرون ملک چلے جائیں تو انہیں رہا کرسکتے ہیں۔
البیتاوی کا کہنا تھا کہ کئی اسیران کو شہربدری پر بھی بلیک میل کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی جیل "عسقلان” میں ان کی ملاقات ایک بتیس سالہ فلسطینی اسیر رامی عصام سلیمان سے ہوئی۔ سلیمان نے بتایا کہ اسرائیلی جیل حکام اسے کئی مرتبہ یہ پیشکش کر چکے ہیں کہ اگر وہ مغربی کنارے کے بجائے فلسطین سے باہر کسی دوسرے ملک جانے کے لیے تیار ہو جائے تو وہ وہاں بھیجنے پر تیار ہیں۔
رامی سلیمان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج نے اسے 17 مئی2007ءکو اس کے آبائی شہر سلفیت( مغربی کنارا) سے گرفتار کیا تھا۔ اسرائیلی عدالت کی جانب سے اسے چالیس ماہ قید کی ساز کا حکم دیا گیا۔ وہ چالیس ماہ اپنی سزا پوری کر چکا ہے لیکن صہیونی حکام نے اس کے باوجود اسے تین جیلوں، شطہ، مجد اور ھداریم اور اس کے بعد عسقلان منتقل کیا ہے۔ وہ ابھی تک انتظامی تحویل میں ہے اور اسرائیلی حکام اسے مسلسل بلیک میل کر رہے ہیں کہ اگر وہ بیرون فلسطین جانے کے لیے تیار ہو تو اسے رہا کیا جا سکتا ہے۔
انسانی حقوق کے مندوب کا کہنا ہے کہ سلیمان کوئی واحد مثال نہیں۔ اسرائیلی جیلوں میں زیرحراست ایسے دسیوں اسیر موجود ہیں جواپنی سزائیں پوری کر چکنے کے بعد بھی صرف اس لیے حراست میں رکھے گئے ہیں کہ انہیں رہائی کے بعد فلسطین سے باہر منتقل کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔

