فلسطینی وزارت داخلہ نے تین سال قبل اسرائیلی جنگی جارحیت میں جام شہادت نوش کرنے والے سابق وزیرداخلہ شیخ سعیدصیام کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہید صیام نے غزہ کی پٹی میں حقیقی اور سچی سیکیورٹی کی تخم ریزی کی۔
سیکیورٹی فورسز اور وزارت داخلہ ان کے بتائے ہوئے نقش قدم پر چلتی رہےگی۔
خیال رہے قابض صہیونی فوج نے پندرہ جنوری 2009ء میں غزہ کی پٹی پر مسلط جنگ کی گئی جنگ کے دوران غزہ کی وزارت داخلہ کے دفتر پر بمباری کی تھی جس کے نتیجے میں سابق وزیرداخلہ شیخ سعید صیام اپنے کئی سرکردہ ساتھیوں اور پولیس چیف سمیت جام شہادت نوش کر گئے تھے۔ آج ان کی شہادت کو تین سال مکمل ہوچکے ہیں۔
وزارت داخلہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں سابق وزیرداخلہ شہید شیخ صیام اور ان کے تمام دیگر شہید ساتھیوں کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ شیخ سعید نے جس مہارت کےساتھ فلسطینی سیکیورٹی فورسز کے قیام کی کوشش کی تھی اور جن خطوط پر وہ سیکیورٹی اداروں کو قائم کر کے گئے ہیں نہ صرف سیکیورٹی ادارے بلکہ وزارت داخلہ کے دیگر تمام شعبے بھی انہی کی فراہم کردہ رہ نمائی میں کام کرتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ فلسطینی وزارت داخلہ سمیت تمام دیگر شعبوں کی کامیابی سعید صیام کی محنت کی مرعون منت ہے۔ان کی تیارکردہ سیکیورٹی فورسزنے فلسطینی عوام کو مزید محفوظ بنا دیا ہے۔ پولیس اور دیگر ادارے انہی کے فراہم کردہ نقشہ راہ پر چلتے ہوئے اس وقت کامیابیوں کےجھنڈے گاڑھ رہے ہیں۔ غزہ کی پٹی سے ہر قسم کے جرائم پیشہ عناصر کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ تین سال قبل صہیونی جارحیت کے دوران معرکہ فرقان اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے جیتا ہے۔وہ قوم اور خدا کے ساتھ کیے گئے اپنے وعدے میں سرخرو ٹھہرے ہیں اور قوم کواور فتح ونصرت کی نوید سنا گئے۔
بیان میں صہیونی دشمن سے کہا گیا کہ شیخ سعید صیام جس راہ پر چلتے ہوئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر گئے ہیں۔ فلسطین کا بچہ بچہ اور غزہ کے تمام سیکیورٹی اداروں کے اہلکار اسے راستے کے سپاہ یہیں۔ اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر دوبارہ جنگ مسلط کی تو صہیونی دشمن کو ایسی بدترین شکست سے دوچار کیا جائے گا جس طرح سنہ 2009ء کی جنگ میں کیا گیا ہے۔

