مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق افریقی ملک الجزائر کے ایک سرکردہ سیاست دان اور "امن سماجی” پارٹی کے صدر ڈاکٹر عبدالرزاق مقری نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل خود یہ چاہتا ہے کہ شام ، لبنان اور دوسرے پڑوسی عرب ملکوں میں مقیم فلسطینی پناہ گزینوں کو دور افتادہ یورپی ملکوں میں ٹھکانہ مل جائے تا کہ وہ فلسطین میں آباد کاری کے مطالبے سے دست بردار ہوجائیں۔
اپنے ایک بیان میں الجزائری سیاست دان کا کہنا تھا کہ یورپی ملکوں کی جانب سے لاکھوں شامی اور ہزاروں فلسطینی پناہ گزینوں کو اپنے ہاں اقامت کا حق دینا اسرائیل کے مفاد میں ہے کیونکہ اسرائیل یہی چاہتا ہے کہ اس کے پڑوسی ملکوں میں موجود فلسطینی وہاں سے بھی نکل جائیں۔ انہیں یورپی ملکوں میں رہائش کا حق مل جائے اور وہ "حق واپسی” سے دستبردار ہوجائیں۔
ڈاکٹر عبدالرزاق مقری کا کہنا تھا کہ ماہرین یہ اندازہ لگا رہے ہیں کہ سنہ 2050 ء تک یورپی ملکوں میں تارکین وطن کی تعداد 47 ملین سے تجاوز کرجائے گی۔ یوں ہر سال 10 لاکھ تارکین وطن یورپ پہنچیں گے جس کے نتیجے میں یورپی ممالک کی آبادی میں بھی غیرمعمولی اضافہ ہوجائے گا۔ یورپی ملکوں کو نئی اور نوجوان کھیپ مہیا ہوگی اور ان کی صنعتی ترقی کا ذریعہ بنے گی۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو اس وقت زیادہ خوشی ہوگی جب نیوزی لینڈ پانچ لاکھ شامی اور فلسطینی پناہ گزینوں کو اپنے ہاں رہائش کا حق دے گا۔ یورپ کی طرف فلسطینیوں کی منتقلی سے "حق واپسی” ساقط ہوجائے گا اور فلسطین میں صہیونیوں کو راج کرنے کا مزید موقع مل جائے گا۔ عالمی سطح سے بھی اسرائیل پر فلسطینی پناہ گزینوں کےحوالے سے دبائو کم ہوجائے گا۔
خیال رہے کہ فلسطین میں صہیونی ریاست کے منحوس قیام کے بعد سے آج تک 70 لاکھ سے زائد فلسطینی پناہ گزین دوسرے ملکوں میں عارضی طورپر مقیم ہیں لیکن وہ اپنے وطن میں دوبارہ واپس آنے اور فلسطین میں آباد ہونے کے مطالبے پر بھی قائم ہیں۔ عالمی سطح پر بھی فلسطینی مہاجرین کی واپسی کے حق کو تسلیم کیا گیا ہے مگر اسرائیلی ریاست کی ہٹ دھرمی اور صہیونیت نواز عالمی اوباشوں کی وجہ سے جس طرح آزاد فلسطینی ریاست کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکا ہے اسی طرح لاکھوں پناہ گزینوں کی واپسی کا مسئلہ بھی ہنوز حل طلب ہے۔
