فلسطین میں حال ہی میں صہیونی جیل سے رہا ہونے والے دو کم سن بچوں نے بتایا ہے کہ دوران حراست انہیں صہیونی حراستی مراکز میں تیسرے درجے کے تشدد کا اور نہایت خوفناک اذیتوں کا
سامناکرنا پڑا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق جیل سے رہائی پانے والے فلسطینی بچوں محمد العداربہ اور محمود یوسف نے بتایا کہ انہیں اگست کے آخر میں رام اللہ سے حراست میں لیا گیا۔ حراست میں لیے جانے کے بعد انہیں”عتصیون” نامی ایک بدنام زمانہ حراستی مرکز میں رکھا گیا جہاں انہیں اذیت ناک طریقے سے ٹارچر کیا جاتا رہا ہے۔
دونوں بچوں نے بتایا کہ وہ کئی روز تک تنگ اور تاریخ کوٹھڑیوں میں بھوکے پیاسے رہے جہاں ان کے آس پاس حشرات الارض اور موذی جانوروں کی بہتات تھی۔ گرفتاری کے وقت انہیں زنجیروں میں جکڑ کرگاڑیوں میں ڈالا گیا اور آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر حراستی مرکز لے جایا گیا۔
العدرابہ نے بتایا کہ صہیونی فوجیوں نے نصف شب ان کےگھر پردھاوا بولا۔ اس کے والدین اور بہن بھائیوں کو کچن میں بند کرکے باہر سے دروازہ بند کردیا۔ اس کے بعد گھر کی جامہ تلاشی لی گئی اور قیمتی سامان کی توڑپھوڑ کے ساتھ نقدی اور زیوارت لوٹ لیے۔ صہیونی فوجیوں نے مجھے پہلے والدین کے سامنے ہولناک تشدد کا نشانہ بنایا اور میرے پورے جسم پر بندوقوں کے بٹ، لاتیں اور گھونسے مارے۔ جیل میں لے جانے کے بعد بجلی کے جھٹکے لگائے گئے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ کم عمر فلسطینی محمود یوسف کو رام اللہ کے قریب سے النبی صالح کے مقام سے حراست میں لیا گیا۔ اسے بھی گرفتاری کے وقت وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ بعد ازاں جیل میں لے جا کربھی اسے ہولناک تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ دونوں فلسطینی بچوں کے جسموں پر تشدد کے نشانات موجود ہیں۔ محمود کے جسم اور نازک اعضاء پر سلگتے سگریٹ لگائے گئے ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
