مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق "اونروا” کی جانب سے بجٹ کٹوتیوں کے خلاف غزہ کی پٹی میں تنظیم میں شامل 13 ہزار ملازمین نے احتجاجی جلوس نکالا۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر بجٹ میں کمی کرنے کے خلاف احتجاجی نعرے درج تھے۔
احتجاجی مظاہرے کی کال "اونروا” کے زیرانتظام "ورکز فیڈریشن” کی جانب سے دی گئی تھی۔ فیڈریشن کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی پناہ گزینوں کے حقوق اور ان کی فلاح و بہبود کی تمام ذمہ داری "اونروا” پرعاید ہوتی ہے۔ اقوام متحدہ کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ فلسطینی پناہ گزینوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنائے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم بجٹ کٹوتیوں اور پناہ گزینوں کی بہبود کے منصوبوں میں تعطل کسی صورت میں برداشت نہیں کرسکتے ہیں۔ تمام فلسطینی ملازمین بالخصوص "اونروا” سے وابستہ افراد اپنے حقوق کے لیے جدو جہد جاری رکھیں گے۔
خیال رہے کہ رواں سال "اونروا” کی جانب سے متعدد مرتبہ کہا گیا تھا کہ اس کے پاس بجٹ کی شدید قلت ہے اور ادارے کو اپنے منصوبوں کو آگے بڑھانے کے لیے 101 ملین ڈالر کی رقم درکار ہوگی۔
