مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیلی سیاسی رہ نمائوں کے وفد نے اتوار کو صدر محمود عباس سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ صدر عباس کی جانب سے یہودی انتہا پسند لیڈروں اور فلسطینیوں کے قاتلوں کے اعزاز میں پرتکلف ظہرانہ بھی دیا۔
فلسطینی صدر محمود عباس کی جانب سے یہودی سیاست دانوں کےوفد کا شاندار استقبال ایک ایسے وقت میں کیا ہے فلسطینی عوام یہودی آباد کاروں کی وحشیانہ کارروائی میں ایک شیرخوار فلسطینی بچے کے ظالمانہ قتل کے واقعے کے بعد سخت دکھی ہیں۔ فلسطینی سیاسی جماعتوں اور عوامی حلقوں کی جانب سے محمود عباس کے اس اقدام کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ صدر عباس نے ایسے حساس موقع پر یہودی سیاست دانوں کا استقبال کرکے مظلوم فلسطینیوں کے زخموں پر نمک پاشی کی ہے۔ یہ موقع کسی بھی حوالے سے یہودی لیڈروں کے استقبال اور ان کے اعزاز میں پرتکلف دعوتوں کے لیے مناسب نہیں ہے۔ فلسطینی عوام اس وقت ایک معصوم بچے کے زندہ جلائے جانے کے واقعے پر سخت مشتعل ہیں۔ عوام فلسطینی اتھارٹی کے اس "دشمن نوازی” کے اقدام کو برداشت نہیں کریں گے۔
خیال رہے کہ اتوار کی شام فلسطینی ایوان صدر کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ اسرائیلی سیاسی جماعت”میرٹز” کی چیئرپرسن زھافا گلئون کی قیادت میں یہودی لیڈروں کے ایک وفد نے صدر عباس سے ملاقات کی ہے۔ ملاقات میں فلسطین اسرائیل امن بات چیت کی بحالی سمیت دیگر موضوعات پرتبادلہ خیال کیا گیا۔
اسرائیلی اخبارات کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اتوار کے روز مغربی کنارے کے تمام شہروں بالخصوص رام اللہ میں عباس ملیشیا کو ہائی الرٹ دیکھا گیا ہے۔ فلسطینی صدر کے زیرکمانڈ سیکیورٹی اداروں کی جانب سے حساس مقامات پر سیکیورٹی کے سخت ترین اقدامات کیے تھے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
