مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق بیت المقدس میں اسرائیلی بلدیہ کے زیرانتظام ان منصوبوں کا مقصد "مامن اللہ” قبرستان کی تاریخی اسلامی حیثیت اور تشخص کو ختم کرنا اور ان قبروں پر نائٹ کلب تعمیر کرنا ہے۔
صہیونی حکومت نے جو نقشے جاری کیے ہیں ان میں بتایا گیا ہے کہ وہ قبرستان کی زمین پر دو چھ چھ منزلہ عمارتیں تعمیر کرنے جا رہی ہے جن میں تجارتی مراکز، ہوٹل، ریستوران، شراب خانے، کلچر سینٹرل اور کئی دوسرے مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے فلیٹس شامل ہیں۔
"کیوپریس” کے مطابق اسرائیلی بلدیہ کی جانب سے جاری نقشہ جات کے مطابق زیرتکمیل منصوبوں پر 18 ملین ڈالر کی خطیر رقم خرچ کی جائے گی۔
منصوبے کے تحت کمپلیکس کے لیے 20 دونم کی جگہ مختص کی گئی، جب کہ 62 ہزار مربع میٹر کے رقبے پر ایک بڑا ہوٹل، رہائشی فلیٹس، کمرشل پلازے اور پبلک عمارات بنائی جا رہی ہیں۔ مذکورہ ہوٹل میں 480 کمرے ہوں گے جو قبرستان کے 33334 مربع میٹر پربنایا جائے گا۔ جب کہ رہائشی فلیٹس کے لیے 22000 مربع میٹر اور پبلک عمارات کے لیے 33333 مربع میٹر کی جگہ مختص کی گئی ہے۔ پبلک مقامات میں ایک بڑا کار پارکنگ بھی شامل ہے جس میں 900 کاریں ایک وقت میں پارک کی جاسکیں گی۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
