اسرائیلی جیلوں میں زیرحراست فلسطینیوں کی جانب سے انسانی حقوق کے اداروں کے توسط سےان کے مادہ تولید کی مصنوعی طریقے سے منتقلی کے عمل سے بچوں کی پیدائش کا رحجان زور پکڑ رہا ہے۔ اب تک اس عمل سے متعدد فلسطینی اسیر صاحب اولاد ہوچکے ہیں۔ اس سلسلے کی تازہ کڑی "احمد السکنی” نامی فلسطینی قیدی ہے، جس کے نطفے کی مصنوعی منتقلی کےنتیجے میں اس کے ہاں جڑواں بچوں کی پیدائش ہوئی ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق احمد السکنی کے جڑواں بچوں کے نام "معتز” اور "سوار” رکھے گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 35 سالہ السکنی کو صہیونی فوج نے سنہ 2002 ء میں حراست میں لیا۔ ان پر اسلامی جہاد سے تعلق کے الزام میں مقدمہ چلایا گیا اور عدالت نے انہیں 27 سال قید بامشقت کی سزا کا حکم دیا۔
السکنی کا ایک بیٹا طارق 14 جولائی 2013 ء کو غزہ کی پٹی میں ایک ٹریفک حادثے میں وفات پاگیا تھا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسرائیلی جیل میں قید السکنی کا نطفہ حاصل کیا اور اسے جدید سائنسی طریقے کے تحت اس کی اہلیہ کے رحم میں منتقل کردیا جہاں اللہ نے اسے جڑواں بیٹے دیے ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
