گھروں میں تیار ہونے والی مٹھائیوں[حلویات] میں "عید کیک” بھی ایک ایسی قابل ذکر "ڈش” ہے جس کا عید کے ایام میں تذکرہ نہ کرنا زیادتی ہوگی۔
مرکزاطلاعات فلسطین میں گھروں میں تیار ہونے والے اس منفرد "عید کیک” کی تیاری اور اس کے ذائقے اور تاریخ پر روشنی ڈالی ہے۔ دودھ کی بالائی، کھجور،شکر سمیت بعض دوسری اشیاء اس کیک کی تیاری میں استعمال ہوتی ہیں۔ فلسطین میں عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کے موقع پر دسترخوان پرسجے کھانوں میں یہ بہترین اور مرغوب خوراک سمجھی جاتی ہے۔
"عید کیک” چونکہ کسی بیکری میں تیار نہیں کیا جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ اسے عموما گھرں میں خواتین ہی تیار کرتی ہیں۔ اس کی تیاری میں کچھ زیادہ وقت اور محنت بھی درکار نہیں ہوتی۔ عید کیک کی تیاری میں دلچسپی رکھنے والی اسراء ابو رمیلہ کہتی ہیں کہ "عید کیک” کی تیاری میں میری ماں،بہینیں اور بچے سب شامل ہوجاتے ہیں۔ خاص طورپر عید کے ایام میں یہ ایک بہترین ڈش سمجھی جاتی ہے جو عید کی خوشیوں کو دوبالا کرتی ہے۔ کیک کی تیاری کے بعد اسے گرما گرم چائے کے ساتھ کھایا جائے تو اس کا ذائقہ اور بھی بڑھیا ہوجاتا ہے۔
اسراء نے بتایا کہ "عید کیک” کسی بھی موسم میں تیار کیا جاسکتا ہے۔ اس میں خشک میوہ جات کا بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ جتنی زیادہ اشیاء ڈالی جائیں گی عید کیک کا ذائقہ اتنا ہی مرغوب ہوتا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ "عید کیک” کو جادوئی ذئقے کا حامل کیک قراردیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ "عید کیک” صرف عید کے ایام میں تیار ہوتا اور خوب ہوتا ہے۔ لوگ زیادہ سے زیادہ عید کیک تیار کرکے نہ صرف اپنے مہمانوں کی تواضع کرتے ہیں بلکہ اپنے عزیزو اقارب میں بھی بانٹے ہیں۔ جس گھر میں عید کیک تیار نہ ہو ایسے لگتا ہے وہاں عید نہیں ہے۔ جو لوگ وقت کی قلت یا کسی دوسری مجبوری کی وجہ سے عید کیک خود تیار نہیں کرپاتے وہ کسی دوسرے کو اس کا سامان مہیا کردیتے ہیں جو ان کی جگہ "عید کیک” تیار کردیتا ہے۔ بعض لوگ آرڈر پرتیار بھی کراتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ میدہ، اخروٹ اور بادام کی گری، دودھ کی بالائی اور کھجور "عیدکیک” کے اہم اجزاہ ہیں۔
جدی پشتی روایت
اسراء ابو رمیلہ نے "مرکزاطلاعات فلسطین” سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "عید کیک” کا تعلق عید الفطر اور عیدالاضحیٰ کے ساتھ مخصوص ہے۔ان ایام کے علاوہ اس کیک کا کوئی وجود نہیں ہوتا لیکن عید کے ایام میں کوئی دسترخوان اس سے خالی بھی نہیں ہوتا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ایک موروثی روایت ہے جو ان کے آبائو اجداد سے چلی آ رہی ہے۔ ان کی نئی نسل بھی اس روایت کو آگے چلانے میں گہری دلچسپی رکھتی ہے۔
گھر داری میں مصروف غادہ الحلوانی نے کہا کہ "مجھے عید کیک بناتے 20 سال ہوگئے ہیں۔ میں نے یہ کام اپنے ماں سے سیکھا اور انہیں ان کے بڑوں نے سکھایا تھا۔
الحلوانی نے کہا کہ ماہ صیام میں ہماری زیادہ توجہ عبادت کی طرف ہوتی ہے اس لیے "عید کیک” جیسے کھانے تیار کرنے کے لیے وقت کم ہی بچتا ہے تاہم اس کے باوجود میں "عید کیک” کی تیاری لیلۃ القدر سے شروع کردیتی ہوں۔ ماہ صیام کے اختتام کے ساتھ ہی اس کی طلب بڑھ جاتی ہے۔
ایک مقامی دکاندار ابو محمد نے بتایاکہ پہلے”عید کیک” صرف گھروں تک محدود ہوتا تھا لیکن اس کی رونق بیکریوں پر بھی دیکھی جا رہی ہے۔ چونکہ بیکریوں میں تیار ہونے والا عید کیک گھروں میں تیار ہونے والے کیک سے ذرامختلف ہوتا ہے اس لیے لوگوں کی اپنی اپنی پسند ہے۔ کچھ لوگ بیکری والے "عید کیک” کو پسند کرتے ہیں اور دکانوں سے خرید کرلیتے ہیں لیکن عمومی رواج اب بھی اس کی گھر ہی میں تیاری ہے۔
ایک سوال کے جواب میں ابو محمد نے بتایا "عید کیک” کی تاریخ بہت پرانی ہے کیونکہ یہ روایت فلسطینیوں کے پاس مصرسے پہنچی ہے۔ مصرمیں اب "عید کیک” کے نام سے بے شمار سویٹس تیار کی جاتی ہیں مگرجو ذائقہ ہمارے ہاں تیار ہونے والے کیک میں ہے وہ اور کہیں بھی دستیاب نہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
