مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق بیروت میں "اونروا” کی جانب سے جاری ایک بیان میں خبردار کیا گیا ہے فلسطینی اتھارٹی اور پی ایل او کی طرف سے پناہ گزینوں کے مسائل کے حل کے لیے ترجیحی بنیادوں پر کام نہ کیا گیا تو لاکھوں فلسطینیوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔
بیان میں بتایا گیا کہ امداد فراہم کرنے والے ممالک کی طرف سے امداد میں کمی کے نتیجے میں "اونروا” کو 10 کروڈ ڈالر کے بجٹ خسارے کا سامنا کرنا پڑا ہے جس کےنتیجے میں لبنان میں فلسطینی پناہ گزینوں کی بہبود کے کئی جاری منصوبے بھی ٹھپ ہوگئے ہیں۔ ایسے میں فلسطینی انتظامیہ کی طرف سے بھی لا پرواہی کا مظاہرہ کرنا نہایت خطرناک ہے۔ فلسطینی اتھارٹی اور تنظیم آزادی فلسطین کی لاپرواہی سے لبنان میں موجود پانچ ملین فلسطینی پناہ گزینوں کی مشکلات میں غیرمعمولی اضافہ ہوسکتا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی انتظامیہ کو”اونروا” کے مالی بحران کے حل میں مدد فراہم کرنی چاہیے لیکن فلسطینی اتھارٹی اور تنظیم آزادی فلسطینی کے عہدیداروں کا طرز عمل نہایت مایوس کن ہے۔ فلسطینی اتھارٹی کی لاپرواہی کی وجہ سے لبنان میں پناہ گزینوں کی بہبود کے جاری صحت، تعلیم اور سماجی بہبود کے مزید منصوبے بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
