خیال رہے کہ اسرائیلی اخبار نے یہ دعویٰ ایک ایسے وقت میں کیا ہے جب دوسری جانب فلسطینی اتھارٹی کےسربراہ محمود عباس کا کہنا ہے کہ انہوں نے اسرائیل سےفوجی تعاون محدود کردیا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق عبرانی اخبار نے لکھا ہے کہ حالیہ برسوں کے دوران مغربہ کنارے میں اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” کے نیٹ ورک کو توڑنےبالخصوص نابلس اور الخلیل شہروں میں حماس کو بری طرح کچلنے میں فلسطینی سیکیورٹی فورسز نے اسرائیلی فوج کے دست وبازو کا کردار ادا کیا ہے۔ فلسطینی فورسز نے مختلف کارروائیوں میں نہ صرف حماس کے بعض کارکنان کو گرفتار کرکے طویل عرصے تک جیل میں رکھا ہے بلکہ بھاری مقدار میں اسلحہ اور بارود بھی قبضے میں لیا گیا ہے۔ یہ اسلحہ ممکنہ طورپر اسرائیل کے خلاف مختلف کارروائیوں میں استعمال ہونا تھا۔
اخبار نے الزام عاید کیا ہے کہ فلسطینی عدالتیں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے گرفتار کیے گئے مزاحمت کاروں کو رہا کردیتی ہیں کیونکہ زیرحراست افراد کے خلاف فلسطینی سیکیورٹی فورسز عدالتوں کو ان کے خلاف ٹھوس ثبوت مہیا کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ تاہم اس کے باوجود فلسطینی فورسز کریک ڈائون میں حماس اور اسلامی جہاد کے کارکنوں کو وقفے وقفے سے گرفتار کرتی رہتی ہے۔
اخباری رپورٹ کے مطابق حال ہی میں فلسطینی ملیشیا نے الخلیل شہر میں تلاشی کی ایک کارروائی کے دوران دھماکہ خیز مواد کی تیاری میں استعمال ہونے والا سیال مواد ضبط کیا ہے جسے مزید تحقیقات کے لیے اسرائیل کےحوالے کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ حال ہی میں فلسطینی ملیشیا نے مختلف مزاحمت کاروں سے ضبط کیے گئے 25 قسم کے دستی اور آتشیں اوزار اسرائیلی فوج کےحوالے کیے ہیں۔ نیز فلسطینی سیکیورٹی فورسز اور اسرائیلی عسکری قیادت میں پچھلے کچھ عرصے کے دوران 37 ملاقاتیں بھی ہوچکی ہیں۔
اس کےعلاوہ عباس ملیشیا مغربی کنارے کے سیکٹر”اے” میں غلطی سے داخل ہونے والے 231 یہودیوں اور صہیونی فوجیوں کو بہ حفاظت اسرائیلی حکام کے حوالے کرتے رہے ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
