مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق حال ہی میں اسرائیلی فوج نے فلسطینی بچوں پر وحشیانہ تشدد کے مرتکب ایک فوجی اہلکار کو بھی بہادری کےتمغے سے نوازنے کے ساتھ ساتھ اس کے عہدے میں ترقی بھی دی گئی۔
الخلیل میں سرگرم "یوتھ فورم برائے انسداد یہودی آباد کاری” کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ ترقی پانے والے اسرائیلی فوجی کا نام”ڈیوڈ نحلاوی” ہے اور اس نے کچھ ہی عرصہ پیشتر مقبوضہ مغربی کنارے کے الخلیل شہرمیں اسکول سے چھٹی کے بعد گھروں کو لوٹںے والے کم سن بچوں کوبغیر کسی وجہ کے تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔
یوتھ فورم کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج کا ایک ایسے اہلکار کو جو فلسطینی بچوں پر تشدد کا مجرم قرار دیا جا چکا ہو کو ترقی دینا صہیونی ریاست میں نسل پرستی کی حوصلہ افزائی کرنا اور جرائم کو مزید ہوا دینے کے مترادف ہے۔
خیال رہے کہ یہودی فوجی اہلکار نحلاوی نے اپریل 2014 ء میں الخلیل شہرکی ایک سڑک پر اسکول سے واپس آتے بچوں پر بندوق تان لی تھی اور انہیں کتابی زمین پرپھینک کر "ہینڈزاپ” کرانے کےبعد انہیں ایک ایک کرکے تشدد کا بھی نشانہ بنایا تھا۔ اس واقعے پر فلسطینی شہریوں میں سخت غم وغصہ کی لہر دوڑ گئی تھی۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے بھی اس واردات کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے غیراخلاقی اور خلاف قانون قراردیا
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
