مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کے لیے "خواتین ایکشن کمیٹی” کے قیام کا اعلان "فلسطین ویمن یونین” کے زیراہتمام غزہ کی پٹی میں ایک ورکشاپ میں کیا گیا۔
غزہ کی پٹی میں منعقدہ ورکشاپ کی صدارت معاشی تجزیہ نگار ڈاکٹر سمیر ابو مدللۃ نے کی جب کہ اجلاس میں حکومت کی اقتصادی کمیٹی کی خصوصی مشیرہ ریہام الوحیدی سمیت خواتین اور مردوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ورکشاپ میں "اپنی اولاد کی بہتر پرورش ملک و قوم کی بھلائی ہے” کے عنوان سے مہم چلانے کا اعلان کیا گیا جس کے تحت اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کو مزید نچلی سطح پر لانے کی کوشش کی جائے گی۔
اس موقع پر فلسطینی بازاروں میں چوربی چھپے لائی جانے والی اسرائیلی مصنوعات کے بارے میں تفصیلی بریفنگ کے ساتھ ساتھ ان اشیاء کے تعارف کرایا گیا جو صہیونی ریاست میں تیار ہونے کے بعد فلسطینی بازاروں میں فروخت کی جاتی ہیں۔ ورک شاپ میں طے کیا گیا کہ اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ سے کے آگاہی مہم میں ہرشعبہ ہائے زندگی کے افراد کو شامل کیا جائے گا تاکہ مہم کو کامیاب بنایا جاسکے۔
مہم کو عالم گیربنانے کی مساعی
اجلاس کے دوران ڈاکٹر ریہام الوحیدی نے تجویز دی کہ اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کے لیے خواتین کی سطح پر قائم ایکشن کمیٹی کوبین الاقوامی حیثیت دی جائے۔ ان کی اس تجویز سے اتفاق کیا گیا اور یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ اگلے مرحلے میں مہم کو فلسطین سے باہرکی دنیا میں بھی منظم کیا جائے گا۔
ورکشاپ کےشرکاء نے فلسطینی تاجر برادری اور عوام سے اپیل کی کہ وہ صہیونی ریاست کی مصنوعات کو اپنے ہاں ترویج دینے کے بجائے اپنے ملک کی تیار کردہ اشیاء کا استعمال کریں۔ ورک شاپ کے آخر میں جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ فلسطین کی سطح پر تیار کی جانے والی مصنوعات معیار میں بہتر اور قیمت میں اسرائیلی مصنوعات کے مقابلے میں سستی ہیں۔ اس لیے اسرائیلی مصنوعات کےبائیکاٹ کی مہم کو کامیاب بنایا جاسکتا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
