• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعرات 5 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home فلسطین

اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کے لیے فلسطین میں”خواتین ایکشن کمیٹی” کا قیام

پیر 15-06-2015
in فلسطین
0
plf action-committe
0
SHARES
0
VIEWS

فلسطین میں اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کو مزید موثراور نتیجہ خیز بنانے کے لیے خواتین کی سطح پر ایک نئی ایکشن کمیٹی کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ کمیٹی کو عالمی سطح پر موثر بنانے کے لیے بین الاقوامی تنظیموں سے بھی رابطے کیے جائیں گے۔

مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کے لیے "خواتین ایکشن کمیٹی” کے قیام کا اعلان "فلسطین ویمن یونین” کے زیراہتمام غزہ کی پٹی میں ایک ورکشاپ میں کیا گیا۔

غزہ کی پٹی میں منعقدہ ورکشاپ کی صدارت معاشی تجزیہ نگار ڈاکٹر سمیر ابو مدللۃ نے کی جب کہ اجلاس میں حکومت کی اقتصادی کمیٹی کی خصوصی مشیرہ ریہام الوحیدی سمیت خواتین اور مردوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ورکشاپ میں "اپنی اولاد کی بہتر پرورش ملک و قوم کی بھلائی ہے” کے عنوان سے مہم چلانے کا اعلان کیا گیا جس کے تحت اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کو مزید نچلی سطح پر لانے کی کوشش کی جائے گی۔

اس موقع پر فلسطینی بازاروں میں چوربی چھپے لائی جانے والی اسرائیلی مصنوعات کے بارے میں تفصیلی بریفنگ کے ساتھ ساتھ ان اشیاء کے تعارف کرایا گیا جو صہیونی ریاست میں تیار ہونے کے بعد فلسطینی بازاروں میں فروخت کی جاتی ہیں۔ ورک شاپ میں طے کیا گیا کہ اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ سے کے آگاہی مہم میں ہرشعبہ ہائے زندگی کے افراد کو شامل کیا جائے گا تاکہ مہم کو کامیاب بنایا جاسکے۔

مہم کو عالم گیربنانے کی مساعی

اجلاس کے دوران ڈاکٹر ریہام الوحیدی نے تجویز دی کہ اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کے لیے خواتین کی سطح پر قائم ایکشن کمیٹی کوبین الاقوامی حیثیت دی جائے۔ ان کی اس تجویز سے اتفاق کیا گیا اور یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ اگلے مرحلے میں مہم کو فلسطین سے باہرکی دنیا میں بھی منظم کیا جائے گا۔

ورکشاپ کےشرکاء نے فلسطینی تاجر برادری اور عوام سے اپیل کی کہ وہ صہیونی ریاست کی مصنوعات کو اپنے ہاں ترویج دینے کے بجائے اپنے ملک کی تیار کردہ اشیاء کا استعمال کریں۔ ورک شاپ کے آخر میں جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ فلسطین کی سطح پر تیار کی جانے والی مصنوعات معیار میں بہتر اور قیمت میں اسرائیلی مصنوعات کے مقابلے میں سستی ہیں۔ اس لیے اسرائیلی مصنوعات کےبائیکاٹ کی مہم کو کامیاب بنایا جاسکتا ہے۔

 

بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.