مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق جرمنی میں مقیم فلسطینی تارکین وطن کی نمائندہ تنظیم”فلسطین ۔ جرمن فورم” کے زیراہتمام مئی کے دوسرے اور آخری پندرہ ایام میں "یوم نکبہ” کے حوالے سے تقریبات کا اعلان کیا گیا تھا۔
اسی ضمن میں کل جمعہ کے روز برلن میں ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں نہ صرف بڑی تعداد میں فلسطینی تارکین وطن نے شرکت کی بلکہ مقامی شہری، انسانی حقوق کے مندوبین اور سول سوسائٹی کے کارکنوں نے بھی شرکت کی۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں فلسطینی پرچم اور بینرز اٹھا رکھے تھے۔ بینروں پر جرمن زبان میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی مظالم کے رد عمل میں نعرے تحریر کیے گئے تھے۔ بینروں پر درج مطالبات میں جرمن حکومت پر بھی زور دیا گیا تھا کہ وہ فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کے منظم جنگی جرائم کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات کے ساتھ فلسطینیوں کے حق واپسی کو یقینی بنانے کے لیے بھی اقدامات کرے۔
بعد ازاں جرمنی میں فلسطینی سوسائٹی کی جانب سے ایک پریس ریلیزبھی جاری کی گئی جس میں جس میں کہا گیا کہ جرمنی میں موجود فلسطینیوں کی نئی نسل بھی "حق واپسی” کے مطالبے پرقائم ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ اندرون اور بیرون ملک جہاں کہیں بھی فلسطینی موجود ہیں ان سب کا متفقہ مطالبہ ہے کہ قیام اسرائیل کے وقت جہاں جہاں سے فلسطینیوں کو نکالا گیا تھا انہیں دوبارہ وہاں پرآباد کیا جائے۔ نیز فلسطینیوں کے حق واپسی کے حوالے سے اقوام متحدہ کی قراردادوں پرعمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔
ادھر جرمنی میں موجود فلسطینی سوسائٹی کے مندوب خالد الظاھر نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ جرمنی مسئلہ فلسطین بالخصوص فلسطینیوں کے حق واپسی کے حوالے سے اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ انہوں نے برلن حکومت پر زور دیا کہ وہ سنہ 1948 ء میں قیام اسرائیل کے وقت فلسطین کے جن شہروں اور دیہاتوں سے فلسطینیوں کو نکالا گیا تھا انہیں ایک بار پھروہیں آباد کرانے میں فلسطینیوں کے ساتھ مل کرآواز اٹھائے۔
جرمنی میں فلسطینی سوسائٹی کے چیئرمین ڈاکٹر سہیل ابو شمالہ نے اپنے ایک بیان میں جرمن شہریوں کی جانب سے فلسطینیوں کی "یوم نکبہ” کے حوالے سے ہونے والی تقریبات میں بڑھ چڑھ کرشرکت کرنے کا شکریہ ادا کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں نے جب بھی اپنے حقوق کے لیے کوئی اجتماع منعقد کیا جرمن شہریوں نے بلا تفریق میں اس میں اپنی شرکت کویقینی بنایا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
