خیال رہے کہ صہیونی پولیس نے 41 سالہ بس ڈرائیور عمران عمیر ابودھیم کو اس وقت گولیاں مار کرشہید کردیا تھا جب اس کی بس کی زد میں دو پولیس اہلکار آ کرزخمی ہوگئے تھے۔ اب تک کی تحقیقات سے یہ پتا چلا ہے کہ فلسطینی بس ڈرائیور بے قصور تھا۔ اس نے ایک دوسری گاڑی کو اورٹیک کے لیے راستہ دیا اور دوران دو پولیس اہلکار بس سے ٹکرا کر معمولی زخمی ہوگئے تھے۔ مگر موقع پر موجود پولیس اہلکاروں نے بغیر سوچے سمجھے ڈرائیور پرگولیوں کی بوچھاڑ کردی جس کے نتیجے میں وہ موقع پر شہید ہوگیا۔
فلسطینی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ عمران ابو دھیم کا کوئی جرم نہیں تھا۔ اسے بے گناہ مارا گیا ہے۔ فلسطینی اتھارٹی عالمی برادری، عالمی اداروں اور بین الاقوامی سطح کی عدالتوں سے پرزور مطالبہ کرتی ہے کہ وہ صہیونی پولیس کے اس وحشیانہ ظلم کی شفاف تحقیقات کرائیں اور مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچائیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ شہید فلسطینی ڈرائیور کے بچے عالمی برادری سے انصاف کے طلب گار ہیں۔ یہ مطالبہ صرف شہید کے خاندان کا نہیں بلکہ پوری فلسطینی قوم کا مشترکہ مطالبہ ہے کہ عمران ابو دھیم کے قتل کی عالمی سطح پرتحقیقات کی جائیں اور مظلوم خاندان کو انصاف مہیا کیا جائے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی اسرائیلی پولیس کے اس مجرمانہ واقعے کو عالمی عدالت انصاف میں لے جانے کے لیے تیاری کررہی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ صہیونی پولیس نے ثابت کیا ہے کہ اسرائیل میں قانون اور عدالت نام کی کوئی چیز نہیں کیونکہ پولیس خود ہی تفتیش کار اور خود ہی جج اور جلاد بن جاتی ہے۔ صہیونی فوجیوں اور پولیس کے نزدیک فلسطینیوں کا خون بہانا پانی سے بھی زیادہ آسان بنا دیا گیا ہے۔ جعلی اور جھوٹے الزامات کے تحت فلسطینیوں کو گولیاں مار شہید کردیا جاتا ہے اور ڈھٹائی کے ساتھ الزام عاید کیاجاتا ہے ان کی طرف سے یہودیوں کو خطرہ لاحق ہوگیا تھا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
