مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق تیونس کی دو جماعتوں”فداء” اور "نصرت فلسطین” کی جانب سے فلسطین پر اسرائیلی قبضے کے 67 سال پورے ہونے کی مناسبت سے جاری ایک بیان میں حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مسئلہ فلسطین، تایخ، فلسطین اور ارض فلسطین پر یہودی غاصبانے قبضے کے مضامین کو لازمی تعلیمی نصاب میں شامل کرے۔
” نصرت فلسطین” کے چیئرمین البشیر خذیر نے ترک خبررساں ادارے”اناطولیہ” سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم متعدد بار وزارت تعلیم سے یہ گذارش کرچکے ہیں کہ وہ مسئلہ فلسطین کو نصاب تعلیم کا حصہ بنائے۔ آج ہم ایک بارپھر اپنا مطالبہ دہراتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین کو شامل نصاب کرنا تیونسی حکومت کا اخلاقی فریضہ ہے اور اس میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں برتی جانی چاہیے۔
انہوںنے کہا کہ ہمارے بچے اور نئی نسل فلسطینیوں کی مسائل سے آگاہ نہیں ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ حکومت نصاب میں فلسطین کو بہ طور لازمی مضمون پڑھانے کا انتظام کرے۔
ادھر تیونس کے دارالحکومت تیونسیہ میں "یوم نکبہ” کی مناسبت سے ایک ریلی بھی نکالی گئی جس میںہزاروں افراد نے شرکت کی۔ مظاہرین ہاھوں میں بینرز اور کتبے اٹھا رکھے تھے جن پرصہیونی ریاست کے خلاف اور فلسطینیوں کے "حق واپسی” کی حمایت میں نعرے درج تھے۔ ریلی سے خطاب میں مقررین نے "یوم نکبہ” پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور فلسطینیوںپر ڈھائے جانے والے مظالم سے قوم کو آگاہ کیا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
