”الحمد للہ۔ اللہ کا شکر ہے کہ مجھے صہیونی فوج کی ایک جیل سے رہائی ملی ہے لیکن میری خوشی ادھوری ہے۔ یہ اس وقت مکمل ہوگی جب اسرائیلی جیلوں میں پابند سلاسل دیگر 18 فلسطینی خواتین بھی رہائی پانے کے بعد اپنے اہل خانہ سے مل پائیں گی”۔
یہ ایمان افروز الفاظ ایک بہادر فلسطینی خاتون ریم حمارشہ کے ہیں جو اس نے اسرائیلی جیل سے رہائی کے بعد اپنے عزیزو اقارب اور ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت میں کہے۔ حمارشہ کا تعلق مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر جنین سے ہے اور وہ پچھلے 8 ماہ سے اسرائیلی جیل میں قید تھی۔ اسے گذشتہ روز رہا کیا گیا۔
رہائی کے بعد جنین کے یعبد قصبے میں اپنے گھر پر جمع عزیزو اقارب اور وہاں پر آئے صحافیوں سے بات چیت کے دوران ریم حمارشہ نے دوران حراست درندہ صفت صہیونی جیلروں کے سلوک اور فلسطینی اسیرات کے عزم وہمت پر روشنی ڈالی۔ اس نے کہا کہ مجھے اپنی رہائی پر کوئی زیادہ خوشی نہیں ہے۔ میں کیسے خوش ہوسکتی ہوں۔ میرے شوہر عدنان حمارشہ بھی پابند سلاسل ہیں۔ میرے ساتھ اسرائیلی عقوبت خانوں میں 18 میری دوسری بہنیں بھی پابند سلاسل ہیں۔ ہزاروں بھائی اور بزرگ جیلوں میں بند ہیں۔ ان کی رہائی کے بعد ہی میری خوشی مکمل ہوسکتی ہے۔ اس نے کہا کہ میرا تو صرف ایک ہی مطالبہ ہے کہ اسرائیل ان تمام جیلوں کو ختم کردے جن میں خواتین کو رکھا جاتا ہے۔
ریما حمارشہ نے کہا کہ غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فوج کے حالیہ حملے کے دوران صہیونی جیلروں نے ان پر سختیوں میں غیرمعمولی اضافہ کردیا تھا لیکن جنگ کے دوران بھی فلسطینی اسیرات کے حوصلے بلند تھے۔ جب ہمیں یہ خبر ملی کہ فلسطینی مجاھدین نے اسرائیل کے ایک فوجی کو جنگی قیدی بنا لیا ہے تو ہماری خوشی کی انتہا نہ رہی۔ ہم اس خوشی میں اپنی اسیری کے دکھ بھول گئی تھی۔
ریم حمارشہ نے کہا کہ اسرائیلی جیلروں اور تفتیش کاروں کا رویہ انسانی نہیں بلکہ وحشیانہ ہوتا ہے۔ وہ قیدیوں کی تذلیل کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ قیدیوں کی ایک جیل سے دوسری میں منتقلی ہو یا اسیران کو عدالتوں میں پیش کرنا ہو۔ ایسے مواقع پر ہر اسیر کے ہاتھوں میں ہتھ کڑی اور پائوں میں بیڑی ضرور ڈالی جاتی ہے۔ ایسا صرف مرد قیدیوں کے ساتھ نہیں بلکہ خواتین کے ساتھ بھی یہی غیرانسانی سلوک کیا جاتا ہے۔
خیال رہے کی ریما حمارشہ کو صہیونی فوج نے اردن سے واپسی پر 16 فروری 2014ء کو حراست میں لیا تھا۔ ان کی گرفتاری کے دوسرے روز ان کے شوہر عدنان حمارشہ کو بھی حراست میں لے لیا گیا تھا۔ وہ متعدد امراض میں مبتلا ہونے کے باوجود بدستور پابند سلاسل ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
