اسرائیلی آرمی چیف جنرل بینی گانٹز نے کہا ہے کہ مسلح افواج دشمنوں کے خلاف ایک بامقصد جنگ لڑنے کے لیے تیار ہے اور یہ جنگ کسی بھی وقت چھڑ سکتی ہے۔
اسرائیلی ریڈیوسے گفتگو کرتے ہوئے جنرل گانٹز نے کہا کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں جارج فوجی آپریشن کے دو اہم ترین مقاصد ہیں۔ پہلا مقصد لاپتا یہودی لڑکوں کی تلاش اور انہیں زندہ و سلامت ان کے اہل خانہ تک پہنچانا ہے اور دوسرا مقصد حماس کے نیٹ ورک کو تباہ کرنا ہے۔ کیونکہ مغربی کنارے میں حماس کی سرگرمیاں اسرائیل کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہیں۔
قبل ازیں اسرائیلی کابینہ کے اجلاس میں گذشتہ جمعرات کے روز مغربی کنارے کے شہرالخلیل سے لاپتا ہونے والے تین یہودیوں اور ان کی تلاش کے لیے جاری آپریشن پر غور کیا گیا۔ اسرائیلی ریڈیو کے مطابق کابینہ میں بھی بار بار اس بات کا حوالہ دیا گیا کہ یہودی آباد کاروں کو حماس کے عسکری گروپ نے یرغمال بنا رکھا ہے۔
خیال رہے کہ گذشتہ جمعرات کی شام کو مغربی کنارے کے شہرالخلیل سے پر اسرار طور پر لاپتا ہونے والے تین یہودی لڑکوں کے بارے میں ابھی تک کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
