اسرائیلی حکومت نے فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ امن مذاکرات کی بحالی کے لیے اسلامی تحریک مزاحمت”حماس” اور الفتح کے درمیان مفاہمت کے خاتمے سے مشروط کر دی ہے اور کہا ہے کہ جب تک فلسطین میں حماس کے اشتراک سے قائم قومی حکومت ختم نہیں ہوتی اس وقت تک مذاکرات بحال نہیں ہوں گے۔
اسرائیلی ریڈیو کے مطابق وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے جاری ایک بیان میں فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس کے اس بیان کا جواب دیا گیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر تیار ہیں۔ اسرائیلی حکومت کی جانب سے سامنے آنے والے موقف میں بتایا گیا ہے کہ تل ابیب اس وقت تک فلسطینی اتھارٹی سے مذاکرات بحال نہیں کرے گا جب تک فلسطین میں حماس کے اشتراک سے قومی حکومت کام کر رہی ہے۔ حماس کے ہوتے ہوئے اسرائیل مذاکرات نہیں کر سکتا ہے۔ فلسطینی اتھارٹی پہلے حماس سے مفاہمت ختم کرنے کا اعلان کرے اس کے بعد امن مذاکرات کی طرف آئے۔خیال رہے کہ گذشتہ اپریل میں فلسطینی جماعتوں حماس اور الفتح کے درمیان قومی مفاہمت کے معاہدے پر اسرائیل سیخ پا ہے۔ اسرائیلی حکومت کے تمام تردباؤ کے باوجود حماس کے اشتراک سے فلسطین میں قومی حکومت بھی تشکیل پا چکی ہے۔ اسرائیل اب بھی مختلف حیلوں بہانوں سے فلسطینیوں کو ایک دوسرے کے دست وگریباں کرنے کی سازش کر رہا ہے۔
