مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق عیسائی پادری نے ان خیالات کا اظہار ایک نیوز کانفرنس کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ بیت المقدس مسلمانوں اور مسیحی برادری کی مشترکہ ملکیت ہے۔ مسلمان اور عیسائی مل کر القدس کو یہودیانے کی صہیونی سازشوں کا مقابلہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل طاقت اور بے پناہ وسائل کے استعمال سے بیت المقدس کا تاریخی، تہذیبی اور ثقافتی نقشہ تبدیل کرنے کی گھناؤنی سازش میں ملوث ہے۔
ایک سوال کے جواب میں عیسائی رہ نما کا کہنا تھا کہ بیت المقدس ہمارے دلوں میں بستا ہے۔ اس کی آزادی تک ہماری جدو جہد جاری رہے گی۔ دنیا کی کوئی طاقت ہمارے دلوں میں بیت المقدس سے محبت ختم نہیں کرسکتی ہے۔
پوپ عطاء اللہ حنا کا کہنا تھا کہ بیت المقدس میں یہودی مداخلت کی مخالفت کی بناء پر آج مسلمان اور عیسائی دونوں اقوام جبر کا شکار ہے۔ اسرائیل ہمارے اوپر اس لیے مظالم ڈھا رہا ہے کہ ہم بیت المقدس کو اس کے حقیقی وارثین کے حوالے کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اس لیے بیت المقدس میں ہماری زندگی کا ناطقہ تنگ کیا جا رہا ہے۔
