فلسطینی سیاسی رہ نماؤں نے صدر محمود عباس کی جانب سے وزارت اسیران کا محکمہ ختم کر کے اسے الگ سے ایک ادارہ بنانے کے اصرار پر سخت ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے اس کے سنگین نتائج پرانتباہ کیا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” کے رکن پارلیمنٹ اور مفاہمتی کمیٹی کے رکن ڈاکٹر خلیل الحیہ نے فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس کی جانب سے اسیران کی وزارت ختم کرنے پر اصرار جاری رہا تو قومی حکومت التواء کا شکار ہوسکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وزارت اسیران کو ختم کرنا اسرائیلی جیلوں میں پابند سلاسل ہزاروں فلسطینیوں کے ساتھ غداری ہوگی۔
حماس رہ نما نے ایک مقامی خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ صدر محمود عباس کو معاملے کی نزاکت کا خیال رکھنا چاہیے۔ حکومت کی تشکیل بعض مسائل کی وجہ سے پہلے ہی تعطل کا شکار ہے۔ صدر محمود عباس کی جانب سے وزارت اسیران کو ختم کرنے پر اصرار جاری رہا تو بحران مزید بڑھ جائے گا۔
ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر خلیل الحیہ کا کہنا تھا کہ وزارت اسیران کو ختم کرنے سے اسیران کے حقوق کے لیے جاری تحریک بری طرح متاثر ہوگی۔ اس لیے صدر کے اس اقدام کا کوئی جواز نہیں ہے۔ انہیں وزارت اسیران کو ختم کرنے پر ہرگز اصرار نہیں کرنا چاہیے۔
خیال رہے کہ فلسطینی جماعتوں حماس اور الفتح کے درمیان قومی حکومت کی تشکیل کا اعلان گذشتہ جمعرات کو ہونا تھا تاہم وزارت خارجہ کے لیے ریاض المالکی کے نام پر صدر محمود عباس کا اصرار اور وزارت اسیران کے خاتمے کی تجویز پر اختلافات پیدا ہوگئے تھے، جس کے باعث حکومت کی تشکیل کا اعلان نہیں ہوسکا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
