اسرائیلی حکومت کی جانب سے مسجد اقصیٰ سے متصل تاریخی مقامات اور وقف املاک کو یہودی مذہبی مراکز میں تبدیل کرنے کی سازشیں بدستور جاری ہیں۔
اسی نوعیت کی ایک نئی سازش یہ سامنے آئی ہے کہ اسرائیلی حکومت نے مسجد اقصیٰ کی مغربی دیوار سے متصل تاریخی عمارت "رباط الکرد” کو یہودی مذہبی مرکز اور مقدس مقام میں تبدیل کرنے کے لیے سازشیں شروع کردی ہیں۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق "رباط الکرد” وہ تاریخی مقام ہے جسے سنہ 1294 ء میں سلطان ناصر محمد بن قلاؤن کے دور حکومت میں دیار مصر کے گورنر مسجد اقصیٰ کے لیے وقف کردیا تھا۔ وقف سے قبل یہ مصری حکمران اسے موسم گرما میں اپنی رہائش گاہ کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ آغاز میں یہ ایک منزل عمارت تھی، جسے مسجد اقصیٰ کے زائرین اور فقراء کے لیے ٹھکانے کے طور استعمال کیا جاتا رہا۔ بعد ازاں اس کے بالمقابل ایک دوسری منزل بھی تعمیر کی گئی اور خلافت عثمانیہ کے دور میں تیسری منزل بھی بنائی گئی تھی، جسے بعد ازاں دینی درسگاہ کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ مسجد اقصیٰ پر اسرائیلی قبضے کے بعد یہاں مدرسہ ختم کردیا گیا تاہم یہ جگہ اب بھی قبلہ اول کا وقف شدہ حصہ سمجھی جاتی ہے۔
اسرائیلی کنیسٹ کی داخلہ کمیٹی طویل عرصے سے مسجد اقصیٰ سے متصل مقامات کو یہودی عبادت گاہوں اور صہیونیوں کے مقدس مقامات میں تبدیل کرنے کی سازشوں میں سرگرم رہی ہے۔ انہی سازشوں میں "رباط الکرد” کو "چھوٹی دیوار گریہ” قرار دے کر اسے یہودیوں کے لیے مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لیے مختص کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔
ادھر مسجد اقصیٰ کی تعمیرو مرمت کی ذمہ دار تنظیم الاقصیٰ فاؤنڈیشن و ٹرسٹ کی جانب سے جاری ایک بیان میں "رباط الکرد” کو قبلہ اول سے الگ کر کے یہودی عبادت گاہ میں تبدیل کرنے کی صہیونی سازش کی شدید مذمت کی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ "رباط الکرد” خالص اسلامی اوقاف میں سے ایک وقف شدہ مقام ہے جو پچھلے آٹھ سو سال سے قبلہ اول کا حصہ رہا ہے۔ رباط الکرد کی ایک انچ پر بھی یہودیوں کا کوئی حق نہیں ہے۔
