• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعرات 5 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home فلسطین

قبلہ اول سے متصل "رباط الکرد” کو یہودی مقدس مقام میں تبدیل کرنے کی سازش

جمعرات 22-05-2014
in فلسطین
0
plf transfer
0
SHARES
0
VIEWS

 

اسرائیلی حکومت کی جانب سے مسجد اقصیٰ سے متصل تاریخی مقامات اور وقف املاک کو یہودی مذہبی مراکز میں تبدیل کرنے کی سازشیں بدستور جاری ہیں۔

اسی نوعیت کی ایک نئی سازش یہ سامنے آئی ہے کہ اسرائیلی حکومت نے مسجد اقصیٰ کی مغربی دیوار سے متصل تاریخی عمارت "رباط الکرد” کو یہودی مذہبی مرکز اور مقدس مقام میں تبدیل کرنے کے لیے سازشیں شروع کردی ہیں۔

مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق "رباط الکرد” وہ تاریخی مقام ہے جسے سنہ  1294 ء میں سلطان ناصر محمد بن قلاؤن کے دور حکومت میں دیار مصر کے گورنر مسجد اقصیٰ کے لیے وقف کردیا تھا۔ وقف سے قبل یہ مصری حکمران اسے موسم گرما میں اپنی رہائش گاہ کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ آغاز میں یہ ایک منزل عمارت تھی، جسے مسجد اقصیٰ کے زائرین اور فقراء کے لیے ٹھکانے کے طور استعمال کیا جاتا رہا۔ بعد ازاں اس کے بالمقابل ایک دوسری منزل بھی تعمیر کی گئی اور خلافت عثمانیہ کے دور میں تیسری منزل بھی بنائی گئی تھی، جسے بعد ازاں دینی درسگاہ کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ مسجد اقصیٰ پر اسرائیلی قبضے کے بعد یہاں مدرسہ ختم کردیا گیا تاہم یہ جگہ اب بھی قبلہ اول کا وقف شدہ حصہ سمجھی جاتی ہے۔

اسرائیلی کنیسٹ کی داخلہ کمیٹی طویل عرصے سے مسجد اقصیٰ سے متصل مقامات کو یہودی عبادت گاہوں اور صہیونیوں کے مقدس مقامات میں تبدیل کرنے کی سازشوں میں سرگرم رہی ہے۔ انہی سازشوں میں "رباط الکرد” کو "چھوٹی دیوار گریہ” قرار دے کر اسے یہودیوں کے لیے مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لیے مختص کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔

ادھر مسجد اقصیٰ کی تعمیرو مرمت کی ذمہ دار تنظیم الاقصیٰ فاؤنڈیشن و ٹرسٹ کی جانب سے جاری ایک بیان میں "رباط الکرد” کو قبلہ اول سے الگ کر کے یہودی عبادت گاہ میں تبدیل کرنے کی صہیونی سازش کی شدید مذمت کی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ "رباط الکرد” خالص اسلامی اوقاف میں سے ایک وقف شدہ مقام ہے جو پچھلے آٹھ سو سال سے قبلہ اول کا حصہ رہا ہے۔ رباط الکرد کی ایک انچ پر بھی یہودیوں کا کوئی حق نہیں ہے۔

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.