مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیلی یونیورسٹی کے ڈین کی جانب سے نہ صرف دونوں فلسطینی طلباء کو نکال دیا گیا ہے بلکہ ان کے خلاف اسرائیل کے قیام کی مخالفت میں سرکاری یونیورسٹی میں بینر لہرانے کے الزام میں مقدمہ بھی درج کیا گیا ہے۔
دونوں فلسطینی طلباء کے خلاف درج کردہ ایف آئی آرمیں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ انہوں نے نہ صرف یونیورسٹی کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی ہے بلکہ جامعہ کو سیاسی مسائل میں الجھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ یوم نکبہ کی یاد میں سرگرمیوں میں ملوث فلسطینی طلباء فلسطین کے ان سیاسی گروپوں سے تعلق رکھتے ہیں جو اسرائیل کو تباہ کرنے کی سازش کر رہے ہیں۔
پولیس سینٹر میں درج ایف آئی آر پر عدالتی کارروائی سے قبل دونوں فلسطینی طلباء کو یونیورسٹی میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔ اسرائیلی عدالت نے انہیں دوبارہ داخل ہونے کی اجازت دی تو اس کے بعد یونیورسٹی مشروط طور پر انہیں اجازت دے سکتی ہے۔ دوسری جانب مقبوضہ فلسطین میں انسانی حقوق گروپ "مرکزالعدالہ” کی خاتون مندوب سوسن زھر نے عبرانی یونیورسٹی کی جانب سے فلسطینی طلباء کے اخراج کی شدید مذمت کی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی یونیورسٹی فلسطینی طلباء کے ساتھ امتیازی سلوک کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ اگر فلسطینیوں کے خلاف نفرت کے اظہار کے لیے یہودی طلباء کوئی بھی قدم اٹھائیں انہیں اس کی کھلی اجازت ہے جبکہ فلسطینی طلباء کی زبان بند کرنے اور ان کا مستقل تاریک کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
