مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق "بدلہ لو” نامی یہ گروپ مقبوضہ عرب شہروں میں فلسطینیوں، عرب باشندوں، مسلمانوں اور اسلام کے خلاف اشتعال انگیز نعروں کی چاکنگ کرکے فلسطینیوں کے اشتعال میں اضافہ کررہا ہے۔ یہ گروپ رات کی تاریکی میں گھروں سے نکلتے ہیں اور گلیوں محلوں یا سڑکوں پر کھڑی فلسطینیوں کی گاڑیوں کے ٹائر پنکچر کردیتے ہیں۔
صہیونی ریاست کے سیکیورٹی ادارے بالخصوص پولیس "بدلہ لو” جیسے غنڈہ گرد گروپ کے خلاف کارروائی میں دانستہ غفلت کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ پولیس کو جرائم پیشہ یہودیوں کے خلاف کوئی شکایت کی جائے، پہلے تو وہ شکایت سنتے نہیں اور سن لیں تو اس پر کوئی کارروائی نہیں کرتے جس کے نتیجے میں یہودی انتہا پسندوں کو فلسطینیوں کے خلاف نسل پرستانہ اقدامات کی مزید حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔
فلسطینی تجزیہ نگار خالد معالی کا کہنا ہے کہ گذشتہ کچھ عرصے کے دوران مقبوضہ فلسطین کے سنہ 1948 ء کے مقبوضہ عرب شہروں میں "بدلہ لو” گروپ کی سرگرمیوں میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے جبکہ مغربی کنارے میں ایسے واقعات میں قدرے کمی دیکھی جا رہی ہے۔ مغربی کنارے میں ایسے واقعات میں کمی کی بنیادی وجہ شہریوں میں شعور کا بیدار ہونا ہے کیونکہ مغربی کنارے کی سطح پر کچھ عرصے سے فلسطینی شہریوں نے دیہی سطح پر اپنی مدد آپ کے تحت دفاعی کمیٹیاں تشکیل دے رکھی ہیں۔ ان کمیٹیوں کے ارکان رات کو گلی محلوں میں گشت کرتے اور پہرہ دیتے ہیں جس کے نتیجے میں یہودی تخریب کاروں کو اپنی سازشوں پر عمل درآمد کا موقع نہیں مل پا رہا ہے، جبکہ سنہ اڑتالیس کے عرب شہروں میں ایسا کوئی انتظام نہیں ہے جس کے نتیجے میں "تدفیع الثمن” جیسے قبضہ گروپ سرگرم ہیں۔
خالد معالی نے بتایا کہ سنہ 2009 ء کے بعد سے اب تک سنہ 1948 ء کے مقبوضہ علاقوں میں "بدلہ لو” نامی گروپ کی جانب سے 31 مساجد پر حملے کر کے انہیں نقصان پہنچایا گیا ہے، ان میں سے بعض مساجد کو پٹرول چھڑک کر آگ لگائی گئی اور انہیں مکمل طور پر شہید کیا گیا۔ ایسے واقعات بروقین، دیر استیا اور یاسوف کے مقامات پر جامع مساجد کے حوالے سے ریکارڈ کیے گئے ہیں۔
فلسطینی تجزیہ نگار نے بتایا کہ یہودی شرپسندں کی طرف سے فلسطینیوں کی املاک پر حملوں کی بنیادی وجہ اسرائیلی حکومت اور سیکیورٹی اداروں کی طرف سے انتہا پسندوں کی روک تھام میں دانستہ لاپرواہی ہے۔
اسرائیلی حکومت اور پولیس ایسے جرائم پیشہ عناصر کو نہ صرف کھلی چھٹی دیے ہوئے ہے بلکہ اگر ایسے لوگ پکڑے بھی جاتے ہیں تو انہیں بغیر کسی سزاء کے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ یہ ایک قسم کی ایسے گروپوں کی کھلی سرپرستی ہے۔
