• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home فلسطین

"بدلہ لو” نامی یہودی گروپ کے جرائم سے فلسطینیوں کی زندگی اجیرن ہوگئی

منگل 13-05-2014
in فلسطین
0
plf group
0
SHARES
0
VIEWS

فلسطین کے سنہ 1948 ء کے مقبوضہ عرب شہروں میں پچھلے کئی سال سے انتہا پسند یہودیوں کے مختلف جرائم پیشہ گروپ سرگرم عمل ہیں جن کے منظم جرائم کے نتیجے میں فلسطینی شہریوں کی زندگی اجیرن ہو کر رہ گئی ہے۔ ان جرائم پیشہ عناصر میں "بدلہ چکاؤ” نامی ایک گروپ پیش پیش ہے۔ جو روز مرہ کی بنیاد پر فلسطینی شہریوں کی جان، مال، مساجد اور مقدس مقامات پر حملوں میں مصروف ہے۔

مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق "بدلہ لو” نامی یہ گروپ مقبوضہ عرب شہروں میں فلسطینیوں، عرب باشندوں، مسلمانوں اور اسلام کے خلاف اشتعال انگیز نعروں کی چاکنگ کرکے فلسطینیوں کے اشتعال میں اضافہ کررہا ہے۔ یہ گروپ رات کی تاریکی میں گھروں سے نکلتے ہیں اور گلیوں محلوں یا سڑکوں پر کھڑی فلسطینیوں کی گاڑیوں کے ٹائر پنکچر کردیتے ہیں۔

صہیونی ریاست کے سیکیورٹی ادارے بالخصوص پولیس "بدلہ لو” جیسے غنڈہ گرد گروپ کے خلاف کارروائی میں دانستہ غفلت کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ پولیس کو جرائم پیشہ یہودیوں کے خلاف کوئی شکایت کی جائے، پہلے تو وہ شکایت سنتے نہیں اور سن لیں تو اس پر کوئی کارروائی نہیں کرتے جس کے نتیجے میں یہودی انتہا پسندوں کو فلسطینیوں کے خلاف نسل پرستانہ اقدامات کی مزید حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔

فلسطینی تجزیہ نگار خالد معالی کا کہنا ہے کہ گذشتہ کچھ عرصے کے دوران مقبوضہ فلسطین کے سنہ 1948 ء کے مقبوضہ عرب شہروں میں "بدلہ لو” گروپ کی سرگرمیوں میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے جبکہ مغربی کنارے میں ایسے واقعات میں قدرے کمی دیکھی جا رہی ہے۔ مغربی کنارے میں ایسے واقعات میں کمی کی بنیادی وجہ شہریوں میں شعور کا بیدار ہونا ہے کیونکہ مغربی کنارے کی سطح پر کچھ عرصے سے فلسطینی شہریوں نے دیہی سطح پر اپنی مدد آپ کے تحت دفاعی کمیٹیاں تشکیل دے رکھی ہیں۔ ان کمیٹیوں کے ارکان رات کو گلی محلوں میں گشت کرتے اور پہرہ دیتے ہیں جس کے نتیجے میں یہودی تخریب کاروں کو اپنی سازشوں پر عمل درآمد کا موقع نہیں مل پا رہا ہے، جبکہ سنہ اڑتالیس کے عرب شہروں میں ایسا کوئی انتظام نہیں ہے جس کے نتیجے میں "تدفیع الثمن” جیسے قبضہ گروپ سرگرم ہیں۔

خالد معالی نے بتایا کہ سنہ 2009 ء کے بعد سے اب تک سنہ 1948 ء کے مقبوضہ علاقوں میں "بدلہ لو” نامی گروپ کی جانب سے 31 مساجد پر حملے کر کے انہیں نقصان پہنچایا گیا ہے، ان میں سے بعض مساجد کو پٹرول چھڑک کر آگ لگائی گئی اور انہیں مکمل طور پر شہید کیا گیا۔ ایسے واقعات بروقین، دیر استیا اور یاسوف کے مقامات پر جامع مساجد کے حوالے سے ریکارڈ کیے گئے ہیں۔

فلسطینی تجزیہ نگار نے بتایا کہ یہودی شرپسندں کی طرف سے فلسطینیوں کی املاک پر حملوں کی بنیادی وجہ اسرائیلی حکومت اور سیکیورٹی اداروں کی طرف سے انتہا پسندوں کی روک تھام میں دانستہ لاپرواہی ہے۔

اسرائیلی حکومت اور پولیس ایسے جرائم پیشہ عناصر کو نہ صرف کھلی چھٹی دیے ہوئے ہے بلکہ اگر ایسے لوگ پکڑے بھی جاتے ہیں تو انہیں بغیر کسی سزاء کے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ یہ ایک قسم کی ایسے گروپوں کی کھلی سرپرستی ہے۔

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.