انسانی حقوق کی تنظیموں نے فلسطینی اتھارٹی پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر عالمی عدالت انصاف کے معاہدہ روم مجریہ 1998ء میں شمولیت کا اعلان کرے اور اس ضمن میں کسی قسم کے عالمی دباؤ کو بھی مسترد کر دے۔
مرکز برائے فلسطینی حقوق کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ رام اللہ اتھارٹی کی جانب سے 16 عالمی اداروں، معاہدوں اور کنونشنز میں شمولیت کا اعلان درست سمت میں اہم پیش رفت ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ فلسطینی اتھارٹی کو ایسے معاہدوں میں شمولیت کی بھی اشد ضرروت ہے جن کے ذریعے فلسطینیوں کے خلاف جنگی جرائم کے مرتکب عناصرکو قرار واقعی سزا دلوانے میں مدد لی جا سکے۔ خاص طور پر اسرائیل کی عسکری اور سیاسی قیادت جن کے ہاتھ فلسطینیوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ ان کے خلاف عالمی عدالت انصاف میں کارروائی کے لیے فلسطین کا عالمی فوجداری عدالت کا رکن ہونا ضروری ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کو جلد از جلد معاہدہ روم میں شامل ہو کر مظلوم فلسطینی عوام کے حقوق اور ان کے دفاع کے لیے ایک قدم اور اگے بڑھنا چاہیے۔ اس وقت معاہدہ روم ہی ایک ایسا فورم ہے جس کے ذریعے فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کا منصفانہ ٹرائل ممکن ہے۔ اس ادارے میں فلسطینی اتھارٹی کی شمولیت کے بعد صہیونی جنگی مجرموں کو عالمی سطح پر کسی قسم کا تحفظ نہیں مل سکے گا اور ان کے خلاف کہیں بھی قانونی کارروائی ممکن ہو گی۔
خیال رہے کہ فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس نے رواں ماہ کے آغاز میں 16 عالمی معاہدوں میں شمولیت کا اعلان کیا تھا، جس پر فلسطینی عوامی حلقوں میں اطمینان کی لہر پیدا ہوئی تھی لیکن جلد ہی انہوں نے امریکا کے دباؤ پر اسرائیل کے ساتھ امن مذاکرات کا ڈھونگ مزید آگے بڑھانے کے لیے عالمی اداروں میں شمولیت کا فیصلہ واپس بھی لینے کا عندیہ دے دیا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
