مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق یہودی کالونی "ارئیل” کے آباد کاروں نے ملحقہ شہر سلفیت کے کئی قصبات کو ضم کرنے کا عمل شروع کیا ہے۔ اس ضمن میں کفل حارس، اسکاکا، یاسوف اور مردہ کے قصبات میں تعمیراتی کام جاری ہے۔
فلسطین میں یہودی کالونیوں کے امور کے ماہر خالد معالی نے ہفتے کے روز سفلیت میں ایک نیوز بریفنگ میں بتایا کہ "ارئیل” کالونی کے یہودیوں کو حکومت کی جانب سے خصوصی مراعات فراہم کی گئی ہیں اور یہ بات یہودیوں کی اپنی ایک تنظیم "بتسلیم” نے بھی اپنی ایک رپورٹ میں درست قرار دی ہے۔
خالد المعالی کا کہنا ہے کہ ارئیل یہودی کالونی کے آباد کاروں کو کالونی میں ایک یونیورسٹی کیمپس کے لیے فنڈز فراہم کیے گئے ہیں۔ یہودی آباد کاروں نے کالونی کی مغربی سمت فلسطینیوں کے پانی کے ایک بڑے حوض اور اس کے آس پاس لے مقامات کو یونیورسٹی کیمپس کے لیے مختص کیا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں معالی کا کہنا تھا کہ یہودی کالونی "ارئیل” سنہ 1978 ء میں قائم کی گئی تھی، جو سلفیت شہر کی اقتصادی اور تہذیبی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن کر ابھری ہے۔ کالونی کے شمالی اور مغربی کناروں پر کئی تاریخی مقامات ہیں جنہیں اب یہودی کالونی کے ملبے اور فضلے کا ڈھیر بنا دیا گیا ہے۔
