اسرائیلی صدر شمعون پیریز نے کہا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ جاری امن بات چیت دراصل اسرائیل کو ایک یہودی ریاست قرار دلوانے کے لیے کی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی اسرائیل کے یہودی تشخص کو تسلیم کر لے
تل ابیب فلسطینیوں کےساتھ سیاسی سمجھوتہ کرنےکے لیے تیار ہے کیونکہ ایسی صورت میں سمجھوتہ خود تل ابیب کے مفاد میں ہو گا۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیلی صدر نے ان خیالات کا اظہار بیت المقدس میں امریکی صہیونی تنظیموں کے سرابراہان کے ایک وفد سے بات چیت کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی ریاست کا قیام خود اسرائیل کے بھی مفاد میں ہے۔ اسی لیے ہم فلسطینی اتھارٹی سے مذاکرات کر رہے ہیں۔ فلسطینی اتھارٹی سے مذاکرات میں اسرائیل کے یہودی تشخص پربات چیت ہو رہی ہے۔ یوں یہ مذاکرات فلسطینیوں اور اسرائیل دونوں کے مفاد میں ہیں۔
اسرائیلی صدر نے امریکی وزیرخارجہ جان کیری کی جانب سے امن مذاکرات کی کوششیں جاری رکھنے پر ان کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اسرائیل کے مفادات کے پیش نظر امن بات چیت آگے بڑھا رہا ہے۔
خیال رہے کہ تل ابیب میں متعین امریکی سفیر ڈان چابیرو نے اپنے ایک بیان میں انکشاف کیا ہے کہ وزیرخارجہ جان کیری نے ایک امن سمجھوتہ تیار کیا ہے جس میں فلسطینی اتھارٹی سے کہا جائے گا کہ وہ اسرائیل کا یہودی تشخص تسلیم کرے۔ اس کے بدلے میں فلسطین کے بعض علاقوں پر مشتمل ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے اسرائیل کو راضی کیا جائے گا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
