فلسطینی شہریوں نے مقبوضہ بیت المقدس میں مسجد اقصیٰ میں دیوار براق کے قریب یہودی تعمیرات کے اسرائیلی منصوبے پر اعتراض کرتے ہوئے یہاں پر کسی قسم کی تعمیرات نہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق مقبوضہ فلسطین کے سنہ 1948ء کے عرب شہروں کی نمائندہ سپریم اسلامک کونسل کی جانب سے اسرائیلی عدالت میں ایک درخواست دائر کی گئی ہے جس میں عدالت سے سلوان کالونی میں دیوار براق سے متصل "جیوش سینٹر” کے قیام کے لیے تعمیرات روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔
فلسطینی سپریم کونسل کے وکیل قیس ناصرنے بتایا کہ اسرائیل مسجد اقصی کے جنوب میں ایک کثیرالمنزلہ عمارت کی تعمیر کا منصوبہ تیار رکھا ہے۔ انہوں نے اسرائیلی عدالت میں درخواست دائر کی ہے جس میں مقدس مقام پر تعمیرات روکے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔ قیس ناصرکا کہنا ہے کہ مسجد اقصیٰ میں مقام براق کے متصل مقدس مقام پر تعمیرات قبلہ اول کے تقدس کو پامال کرنے کے مترادف ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں ایڈووکیٹ ناصرکا کہنا تھا کہ اسرائیلی تنظیم”العاد” کی جانب سے دیوار براق کے قریب مذہی مراکز کا قیام فلسطینی اداروں اور عالمی ادارہ برائے سائنس و ثقافت کی اجازت کے بغیر شروع کیا جا رہا تھا۔ اقوام متحدہ کے ادارے”یونیسکو” نے دیوار براق کو عرب اور اسلامی تاریخی ثقافتی ورثے کا حصہ قرار دے رکھا ہے جس پر کسی دوسرے مذہب کے تمام حقوق منسوخ کر دیے گئے ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
