خبر رساں ایجنسی قدر پریس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ڈاکٹر رزقہ کا کہنا تھا کہ پچھلے مہینے امریکی وزیرخارجہ جان کیری کا دورہ اسرائیل کا مقصد صہیونی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کو ایران کے جوہری پروگرام کے ممکتنہ سمجھوتے پرقائل کرناتھا۔
فلسطینی سیاست دان نے کہا کہ امریکا کبھی بھی ایران پرحملہ کرنے کی جرات نہیں کرسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے اپنے دیرینہ اتحادی اسرائیل کے تہران کے حوالے سے تحفظات دور کرنے کے لیے نیتن یاھو اور ان کی حکومت کی اہم شخصیات سے تفصیلی ملاقات کی اور انہیں ایران کے جوہری پروگرام کے سفارتی حل بارے ہونے والی پیش رفت پراعتمادمیں لیا تھا۔
ڈاکٹر یوسف رزقہ کا کہنا تھا کہ امریکا اسرائیل پر فلسطینیوں کے حقوق کے حوالے سے دباؤ نہیں ڈال سکتا ہے بلکہ واشنگٹن صرف فلسطینی اتھارٹی کو اسرائیل کی خوشنودی کے لیے دباؤ ڈالنا چاہتا ہے۔ ہمیں خدشہ ہے کہ صدر محمود عباس اسرائیل اورامریکا کی بلیک میلنگ کا شکار ہوجائیں اور اوسلو معاہدے جیسا کوئی اورسمجھوتہ کرانے کے بعد فلسطینیوں کے مزید حقوق غصب کرلیے جائیں۔
