اسرائیلی حکومت اور انتہا پسند یہودی مذہبی اراکین کنیسٹ نے مسجد اقصیٰ کی یہودیوں اور مسلمانوں میں زمانی ومکانی اعتبار سے تقسیم کی سازشیں تیز کردی ہیں۔ قبلہ اول کی تقسیم پرصہیونی پارلیمنٹ میں بحث کے لیے ایک مسودہ قانون تیار کرلیا گیا ہے جسے جلد ہی پیش کیا جائے گا۔
مسجد اقصیٰ کی تعمیرو مرمت کی ذمہ دار تنظیم الاقصیٰ فاؤنڈیشن کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیل کی حکمراں جماعت "لیکوڈ” سے وابستہ کنیسٹ کے اسپیکر "موشے فیگلن” اور کئی دوسرے اراکین کنیسٹ نے ایک مسودہ تجویز کیا ہے جسے پارلیمنٹ میں بحث کے لیے پیش کیا جانے والا ہے۔ مسجد اقصٰی کی یہودیوں اور مسلمان نمازیوں کے لیے زمان و مکان کے اعتبار سے تقسیم سے متعلق یہ مسودہ کنیسٹ کی داخلہ کمیٹی کے ذریعے جمع کرایا جائے گا جس کے بعد اس پر بحث کی جائے گی کہ آیا مسجد اقصٰی میں عبادت کے لیے مسلمانوں کو کون سا وقت دیا جائے اور یہودیوں کے لیے کون سا وقت مناسب رہے گا۔
اقصیٰ فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ مسجد اقصیٰ مجموعی طور پر 144 دونم رقبے پھر پھیلی ہوئی ہے جس میں مسلمانوں کے سوا کسی دوسری ملت یا مذہب کے پیروکاروں کا کوئی حق نہیں ہے۔ یہ خالص مسلمانوں کی وقف املاک کا حصہ ہے اور یہودی اس کے ایک ذرے کے بھی مالک نہیں ہیں۔
فاؤنڈیشن نے صہیونی حکومت اور اراکین کنیسٹ کی جانب سے مسجد اقصیٰ کی تقسیم کی سازش کو انتہائی خطرناک قرار دیتے ہوئے اس کے تدارک کے لیے ٹھوس لائحہ عمل مرتب کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل مسجد اقصٰی کو بھی اسی طرح تقسیم کرنا چاہتا ہے جس طرح اس سے قبل مغربی کنارے کے شہرالخلیل میں مسجد ابراہیمی کو یہودیوں اور مسلمانوں میں تقسیم کرنے کی مکروہ سازش کرچکا ہے۔ اگر عالم اسلام نے آج سے ذمہ داری اور بیداری کا مظاہرہ نہ کیا تو قبلہ اول کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
