فلسطین میں نوجوانوں کے نمائندہ قومی اتحاد برائے انتفاضہ نےفلسطینی انتظامیہ کی جانب سے مغربی کنارے میں قومی حقوق کی حمایت میں ریلیاں نکالنے پرپابندی کی شدید مذمت کی ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق انتفاضہ یوتھ فورس کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ تنظیم کی اپیل پر ہزاروں افراد نے سڑکوں پر نکل کراپنے سلب شدہ حقوق کے حصول اور اسرائیلی ریاستی دہشت گردی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کرنے کی کال دی تھی لیکن رام اللہ اتھارٹی نے انہیں احتجاجی مظاہرے کرنے کے بنیادی حق سے بھی محروم کر دیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ فلسطین انتفاضہ اتحاد کا کوئی خطرناک منصوبہ نہیں ہے بلکہ ہم مسئلے کو صحیح سمت میں لانا چاہتے ہیں۔ اسرائیل ہمارے قبلہ اول کے خلاف سازشیں کر رہا ہے، بیت المقدس اور فلسطین کے دوسرے علاقوں میں یہودیوں کی غنڈہ گردی روز کا معمول بن چکی ہے۔ ہم یہودیوں کی سرگرمیوں کے خلاف عوام کو سڑکوں پر لانا چاہتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ فلسطین کا بچہ بچہ اپنے دیرینہ حقوق اور مطالبات کے لیے سربکفن ہے۔ ہم وطن کی آزادی اور مقدسات کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرنے کے لیے تیار ہیں۔ تنظیم نے تمام فلسطینی گروپوں سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنی صفوں میں اتحاد و اتفاق پیدا کریں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
