اسلامی تحریک مزاحمت[حماس] نے امریکی صدر باراک اوباما کے منگل کے روز جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ حماس کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کی جانب سے اسرائیل کے لیے”یہودی ریاست ” کی اصطلاح استعمال کرنا نہ صرف مسئلہ فلسطین کے حوالے نہایت خطرناک ہے بلکہ یہ عالمی ادارے [اقوام متحدہ] کی قراردادوں کی بھی صریح خلاف ورزی ہے۔
ان خیالات کا اظہار حماس کے مرکزی رہ نما اور جماعت کے پارلیمانی لیڈر ڈاکٹر صلاح الدین بردویل نے عرب خبر رساں ایجنسی”قدس پریس” کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کیا۔ انہوں نے کہاکہ مجھے حیرت ہے کہ امریکی ایک طرف فلسطینیوں کے حقوق کی حمایت کےدعوے کر رہے ہیں اور دوسری جانب امریکی صدر باراک اوباما فلسطین میں غاصب اسرائیل کے لیے "یہودی ریاست” کی اصطلاح استعمال کر رہے ہیں۔
امریکیوں کی جانب سے اس طرح کے منتازعہ الفاظ کا استعمال انتہائی خطرناک ہے۔ اس کا صاف مطلب لاکھوں بے فلسطینیوں کو ان کے وطن میں دوبارہ واپس آنے اور آباد ہونے کے حقوق کی نفی کرنا ہے۔ نیز اس اصطلاح کے استعمال کے بعد فلسطینی ریاست کے لیے جاری مساعی بھی خطرے سے دوچار ہو سکتی ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں حماس رہ نما نے کہا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں میں یہ بات تسلیم کی گئی ہے کہ اسرائیل کو دو شرائط کے تحت ہی تسلیم کیا جائے گا۔ اول یہ کہ اسرائیل سنہ 1948ء کی جنگ میں مقبوضہ فلسطین سے نکالے گئے تمام فلسطینیوں کی دوبارہ آباد کاری یقینی بنائے گا۔ دوم یہ کہ اسرائیل ایسا کوئی اقدام نہیں کرے گا جس سے فلسطین کے اصلی باشندوں کی شناخت متاثر ہونے کا اندیشہ ہو۔
یہی بات "بالفور” ڈیکلریشن میں بھی شامل کی گئی ہے۔ اسرائیل کو خاص یہودی ریاست قرار دینے کا صاف مطلب ان دونوں مذکورہ شرائط کو تسلیم کرنے سےانحراف کرنا ہے۔ خاص طور پر جب امریکی صدر اس نوعیت کی متنازعہ اصطلاحات استعمال کریں تو یہ اور بھی زیادہ تشویش کا باعث ہے۔
ڈاکٹر صلاح الدین بردویل نے فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے مابین جاری نام نہاد مذاکرات کی ایک مرتبہ پھرمخالفت کی۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر اور دیگر امریکی عہدیدار اسرائیلی دشمنوں کی طرف داری کر رہے ہیں اور فلسطینیوں پر صہیونی ریاست کے ساتھ مذاکرات کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ یہ ایک قسم کی سیاسی بلیک میلنگ ہے
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
