برطانیہ میں انسانی حقوق کی ایک سرکردہ گروپ” تنظیم برائے انسانی حقوق” کی جانب سے مسجد اقصیٰ کو درپیش خطرات کے حوالے سے سخت الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ انتہا پسند یہودیوں کی ریشہ دوانیوں کے نتیجے میں قبلہ اول سنگین خطرات میں گھر چکا ہے۔ انسانی حقوق گروپ کا کہنا ہے کہ قبلہ اول کے خلاف صہیونی سازشوں کے ساتھ ساتھ امریکا بھی اس جرم میں برابر کا شریک ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق انسانی حقوق گروپ کی جانب سے جاری ایک بیان میں فلسطین کے بارے میں امریکا کی خارجہ پالیسی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کے انتہا پسند حلقوں کی جانب سے مسجد اقصیٰ کی تقسیم کی آوازیں اٹھ رہی ہیں، مسجد اقصٰی کی بنیادوں تلے کھدائی کر کے اسے خطرے سے دوچار کر دیا گیا ہے۔ بیت المقدس کو یہودیت میں تبدیل کر کے شہرکی تاریخی اور تہذیبی حیثیت تباہ کی جا رہی ہے۔ ان تمام حقائق کے ہوتے ہوئے امریکا ان سے نہ صرف صَرفِ نظر کر رہا ہے بلکہ حقائق چھپانے کی سازشیں کر رہا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیم نے اردن سے اپیل کی ہے کہ وہ عالمی فوجداری عدالت "آئی سی سی” کا رکن ہونے کی حیثیت سے مسجد اقصٰی اور بیت المقدس کا مسئلہ عالمی عدالت انصاف میں لے جائے کیونکہ قبلہ اول کو یہودیوں کی ریشہ دوانیوں سے بچانے کا اس کے علاوہ اور کوئی پرامن راستہ نہیں بچا ہے۔
بیان میں مسجد اقصیٰ کو درپیش خطرات کے حوالے سے عالم اسلام کے منفی کردار بالخصوص اسلامی تعاون تنظیم” او آئی سی” کی لاپرواہی کو بھی ہدف تنقید بنایا گیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایسے لگ رہا ہے کہ مسجد اقصٰی اور بیت المقدس کے معاملات اب او ائی سی کے ایجنڈے سے خارج ہو چکے ہیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو یہودی اس انداز میں ڈنکے کی چوٹ پر مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی نہ کرتے۔ عالم اسلام نے قبلہ اول کے دفاع کو فلسطینیوں پر چھوڑ دیا ہے، جو پہلے ہی صہیونی مظالم کا شکار ہیں۔
بیان میں امریکا پر زور دیا گیا ہے کہ وہ فلسطین کے حوالے سے اپنی سالانہ رپورٹ میں یہودیوں کی مسجد اقصٰی میں آمد ورفت کی حمایت واپس لے کیونکہ ایسا کرنے سے انتہا پسندوں کو مسلمانوں کے اس مقدس مقام کی بے حرمتی کا جواز اور حمایت مل رہی ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
