فلسطینی سیاست دانوں نے رام اللہ اتھارٹی اور اسرائیل کے درمیان جاری نام نہاد امن مذاکرات کی مخالفت کے ساتھ ساتھ صہیونیوں کی جانب سے فلسطینی ریاست کے تصور کوبھی مسترد کر دیا ہے۔
فلسطینی مجلس قانون ساز کی رکن اور سرکردہ خاتون سیاسی رہ نما منا منصور نے کہا ہے کہ اسرائیل ایک ایسی محصور فلسطینی ریاست چاہتا ہے جس کا بیرونی دنیا سے کوئی رابطہ نہ ہو اور وہ ہمہ وقت صہیونی ریاست کے لیے یرغمال بنی رہے۔
رام اللہ میں صحافیوں اور اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے مسز منا منصور کا کہنا تھا کہ اسرائیل فلسطینی اتھارٹی کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ فلسطینی اتھارٹی بھی دشمن کے ہاتھ کا ایک کھلونا بن چکی ہے۔
انہوںنے شمالی واری اردن میں فلسطینیوں کے مکانات کی مسماری کی شدید مذمت کی اور کہا ہے کہ اسرائیل ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے وہاں کے اصلی باشندوں کو نکال باہر کرنے کے لیے ان کی املاک تباہ کر رہا ہے۔
فلسطینی خاتون سیاست دان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ بیت المقدس، مغربی کنارے اور وادی اردن میں فلسطینیوں کی املاک پر حملے ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب فلسطینی مذاکرات کار صہیونیوں سے بے مقصد مذاکرات کا راگ الاپ رہے ہیں۔ فلسطینی مذاکرات کاروں میں اتنی اخلاقی جرات نہیں کہ وہ مقبوضہ علاقوں میں جاری یہودی ریاستی دہشت گردی کے خلاف حرف احتجاج بلند کر سکیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
