ماہرین آثار قدیمہ نے مسجد اقصٰی کے گنبد اور قبۃ الصخرہ کی زیب و زینت اور اس کی تاریخی سجاوٹ و کشیدہ کاری کو فن تعمیر کا عدیم النظیر نمونہ قرار دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جس طرح کی کشیدہ کاری قبۃ الصخرہ پر کی گئی ہے پورے خطے میں ایسی کسی جگہ کوئی اور مثال نہیں ملتی۔
ماہر اثارقدیمہ ڈاکٹر محمد مسعود ابو عیشہ نے "مرکز اطلاعات فلسطین” سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "رواں سال مارچ کے بعد سے اب تک وہ قبۃ الصخرہ کے مختلف اضلاع کی ترمیم کے دوران صرف دو ضلعوں کی ترمیم مکمل کر چکے ہیں۔ ہم قبۃ الصخرہ کی نقش ونگار کو زیادہ سے زیادہ دلکش بنانے کے لیے ہرممکن کوشش اور جدید آلات و وسائل استعمال کر رہے ہیں۔ اب تک کے مکمل ہونے والے کام میں ہم نے الفاظ کی کشیدہ کاری کی ہے۔
پرانے زمانے میں کی گئی پچی کاری کے خراب ہونے والے بعض مقامات میں سونے اور چاندی کا بھرتہ ڈال کر اسے ڈیجیٹل انداز میں دوبارہ مضبوط طریقے سے تیار کیا ہے اور آخر میں ہم اسے مزید مضبوط بنانے کے لیے کیمیائی دھاتی پانی سے متعدد مرتبہ دھو رہے ہیں تاکہ پچی کاری کے خوبصورت ڈیزائن اور دلکشی کو چار چاندن لگائے جا سکیں۔
انہوں نے بتایا کہ گذشتہ ماہ صیام کے بعد سے ہم نے مسجد اقصیٰ کے وسطی پورچ کے سامنے کا حصہ تیار کرنے پرکام شروع کیا ہے اور یہ کام تاحال جاری ہے۔
ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر ابوعیشہ کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی مسجد اقصٰی کے گنبد اقدس کی متعدد مرتبہ ترمیم کی گئی اور اس پرنقش و نگارمیں اضافہ اور تبدیلی کی گئی تھی۔ سنہ 1950ء اور سنہ 1960ء کے عشروں میں مصری ماہرین نے یہ خدمت انجام دی۔
انہوں نے زیادہ تر سیمنٹ کا استعمال کیا۔ اس سے قبل مسجد اقصٰی کی تعمیر و مرمت کے لیے آرمینین ماہرین کی خدمات لی جاتی تھیں۔ سنہ 1800ء میں آرمینی ماہرین نے قبۃ الصخرہ کی ترمیم اور اس کی پچی کاری کی اور جدید اور ڈیجیٹل طریقے سے پچی کاری کا کام سنہ 2010ء میں شروع کیا گیا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
