فلسطینی حکومت نے اسرائیلی حکومت کی جانب سے مقبوضہ علاقوں بالخصوص بیت المقدس سے طاقت کے زور پر نکالے گئے شہریوں کی املاک پر قبضے کے لیے وضع کردہ”املاک غائبین” قانون فعال کرنے شدید مذمت کی ہے۔
فلسطینی وزارت قانون و انصاف کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل اس خطرناک قانون کی آڑ میں نہ صرف القدس کے اصلی باشندوں کو ان کے حق جائیداد سے محروم کر رہا ہے بلکہ اس کی آڑ میں شہرمیں یہودی آبادی کے غلبے کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔
فلسطینی وزارت قانون نے بیان میں کہا ہے کہ "املاک غائبین” قانون بین الاقوامی قوانین، اخلاقی اور سیاسی ضابطوں بالخصوص جنیوا کنونشن کے "چارٹر4″کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ عالمی معاہدوں اور قوانین میں بیت المقدس کو ایک متنازعہ اور مقبوضہ علاقہ قرار دیا گیا ہے۔ ان قوانین کی رو سے اسرائیل بیت المقدس میں ایک انچ زمین پر بھی تصرف کا حق نہیں رکھتا ہے۔ فلسطینیوں کی اراضی اور املاک پر غاصبانہ قبضے کا قانون ان عالمی قوانین کے لیے بھی ایک کھلا چیلنج ہے۔ کیونکہ اس سیاہ قانون کی آڑ میں شہر کے اصلی باشندوں کو ان کے حق جائیداد سے محروم کرنے کی گھناؤنی سازش ہو رہی ہے۔ فلسطینیوں کی غصب شدہ املاک کو یہودیوں کو دے کر اسرائیل شہر کو اصلی باشندوں سے خالی کرنا چاہتا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ بیت المقدس میں اسرائیلی حکومت کے یک طرفہ ظالمانہ تصرفات سے شہر کی آئینی حیثیت اور اس پر فلسطینیوں کے حق کو سلب نہیں کیا جا سکتا ہے۔ فلسطینی ہی اس شہر کے اصلی باشندے ہیں۔ شہر میں صہیونیوں کے رہنے کا کوئی جواز اور حق نہیں ہے۔
خیال رہے کہ اسرائیل نے بیت المقدس اور فلسطین کے دیگر شہروں سے جبری نکالے گئے فلسطینیوں کی املاک اور زمینوں پر قبضے کے لیے کئی سال پہلے "املاک غائیبین” کے نام سے ایک قانون بنایا تھا جس کی آڑ میں ہزاروں فلسطینی خاندانوں کی املاک قبضے میں لی گئی۔ عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں کی سخت تنقید کے بعد کچھ سال سے یہ قانون غیر فعال تھا، تاہم حال ہی میں اسی قانون کو فعال کرنے کے لیے ایک نیا قانون بنایا جا رہا ہے، جسے منظوری کے لیے صہیونی سپریم کورٹ میں بھیجے جانے کی تیاری ہو رہی ہے۔
اس نئے مجوز ہ مسودہ قانون میں اسرائیل کے خلاف مزاحمت میں ملوث یا اسرائیل مخالف کسی تنظیم سے تعلق کی بنیاد پر بیت المقدس کے خاندانوں کی اراضی اور جائیداد ضبط کر لی جائے گی۔ اس قانون کو فعال کیے جانے کی خبروں کے بعد انسانی حقوق کے حلقوں اور فلسطینیوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
