• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home فلسطین

"اسرائیل مذاکرات کی آڑ میں مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے کوشاں”

پیر 19-08-2013
in فلسطین
0
plft 19 Bargosi
0
SHARES
0
VIEWS

فلسطینی قومی اقدام پارٹی کے سیکرٹری جنرل مصطفیٰ البرغوثی نے اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان نام نہاد امن مذاکرات کی سخت مخالفت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صہیونی دشمن رام اللہ حکام سے مذاکرات کی آڑ میں بیت المقدس میں یہودیت پھیلانے کی خطرناک سازش جاری رکھے ہوئے ہے۔

مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطینی اقدام پارٹی کے رہ نما اور رکن قانون ساز کونسل مصفطیٰ البرغوثی نے ان خیالات کا اظہار رام اللہ میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ بیت المقدس کے اصلی باشندوں کی املاک غصب کرنے کے لیے اسرائیل”املاک غائبین” نامی ایک کالے قانون کا سہارا لے رہا ہے۔ اس طرح کے قوانین کا نفاذ فلسطینیوں کے خلاف صہیونی ریاست کے نسلی امتیاز کا مظہر ہے۔ اسرائیل میں اس نوعیت کے قوانین محض اس لیے بنائے جاتے ہیں تاکہ فلسطینیوں کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھا جاسکے۔ اسرائیل نے”املاک غائبین” قانون بنا کر نہ صرف فلسطینیوں کی املاک غصب کرنے کی سازش کی ہے بلکہ اس قانون کی آڑ میں مقبوضہ بیت المقدس میں یہودیوں کی آبادی اکثریت میں تبدیل کرنا اور فلسطینیوں کو اقلیت باور کراکے شہرمقدس پر قبضے کی راہ ہموار کرنا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں البرغوثی کا کہنا تھا کہ اسرائیل میں بیت المقدس کو یہودیت کا گڑھ بنائے جانے کا قانون پہلی مرتبہ منظور نہیں ہوا ہے۔ اسرائیلی حکومت، پارلیمنٹ، فوج اور ریاست کے تمام ادارے القدس کو مسلمانوں سے چھیننے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ اس کے لیے کبھی املاک غائبین جیسے قوانین وضع کیے جاتے ہیں اور کبھی براہ راست فوج کی مدد سے فلسطینیوں کو ڈرا دھمکا کر وہاں سے نکل جانے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل ایک ہاتھ سے فلسطینیوں کا بیت المقدس میں تشخص ختم کر رہا ہے اور دوسرے ہاتھ سے فلسطینیوں کی املاک پر قبضہ کیا جا رہا ہے۔ یہ سب کچھ فلسطینی اتھارٹی سے مذاکرات کی آڑ میں ہو رہا ہے اور اسرائیل ان مذاکرات کو اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے ایک ڈھال کے طورپر استعمال کرتا ہے۔

ایک دوسرے سوال کے جواب میں مصطفیٰ البرغوثی نے کہا کہ املاک غائبین کا ظالمانہ قانون عالمی قوانین اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ فلسطینیوں کو صہیونی حکومت کے اس ظالمانہ قانون کو نہ صرف مسترد کر دینا چاہیے بلکہ اس طرح کے قوانین کے خلا ف عالمی عدالت انصاف سے رجوع کر کے صہیونیوں کی سازشوں کو ناکام بنانا چاہیے۔

خیال رہے کہ اسرائیل نے بیت المقدس اور فلسطین کے دیگر شہروں سے جبری نکالے گئے فلسطینیوں کی املاک اور زمینوں پر قبضے کے لیے کئی سال پہلے”املاک غائیبین” کے نام سے ایک قانون بنایا تھا جس کی آڑ میں ہزاروں فلسطینی خاندانوں کی املاک قبضے میں لی گئی۔ کچھ سال سے یہ قانون غیر فعال تھا، تاہم حال ہی میں اسی قانون کو فعال کرنے کے لیے ایک نیا قانون بنایا جا رہا ہے، جسے منظوری کے لیے صہیونی سپریم کورٹ میں بھیجے جانے کی تیاری ہو رہی ہے۔ اس نئے مجوز ہ مسودہ قانون میں اسرائیل کے خلاف مزاحمت میں ملوث یا اسرائیل مخالف کسی تنظیم سے تعلق کی بنیاد پر بیت المقدس کے خاندانوں کی اراضی اور جائیداد ضبط کر لی جائے گی۔

بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.