اسرائیلی وزیر مالیات نفٹالی بینیٹ نے کہا ہے کہ فلسطینیوں کو گرفتار کرنے کے بجائے انہیں موقع پر ہی قتل کرنا زیادہ بہتر سمجھتے ہیں۔
ان خیالات کا اظہار صہیونی وزیر نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ‘فیس بک’ پر اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ "فلسطینیوں کو گرفتار کرنے کے بعد ان پر کوئی جرم ثابت نہ ہونے پر انہیں رہا کرنے سے بہتر ہے کہ انہیں فوراً قتل کر دیا جائے۔”
اس امر کا انکشاف انسانی حقوق کی تنظیم "تضامن فاٶنڈیشن”نے کیا۔ فاٶنڈیشن کے مطابق دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے وزیر کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کو گرفتار نہ کیا جائے کیونکہ ان کا جرم ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی نہیں بلکہ اسرائیلیوں کا قتل ہے، لہذا انہیں موقع پر ہی سزا دی جائے۔
وزیر موصوف کا مزید کہنا تھا کہ اب گرفتاری فلسطینیوں کیلیے عبرت کی بات نہیں ہے۔ لہذا اسرائیلی فوج کے ساتھ مل کر کام کرنا ہو گا اور انہیں بتانا ہو گا کہ ایسے مجرموں کے ساتھ کیسے پیش آیا جاتا ہے۔
تضامن فاونڈیشن کے مطابق اسرائیلی وزیر مالیات نفٹالی بینیٹ کی جانب سے فلسطینیوں کے خلاف ماورائے عدالت قتل جیسے جارحانہ اقدام کی وکالت اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ نام نہاد امن مذاکرات کے لئے فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے اقدام کے حق میں نہیں تھے۔
بشکریہ:مرکشاطلاعات فلسطین
