اسپین کے فٹبال کلب”بارسلونا” کے معروف کھلاڑی کی مسجد اقصیٰ سے متصل دیوار گریہ میں تلمودی تعلیمات کے مطابق عبادات کی ادائیگی کی فلسطین بھرمیں سخت مذمت کی جا رہی ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اسپانوی فٹبالر کے اس متنازعہ اقدام پر مسجد اقصیٰ کی تعمیرو مرمت کی ذمہ دار تنظیم”الاقصیٰ فاؤنڈیشن و ٹرسٹ” نے سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اقصیٰ فاؤنڈیشن کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اسپین کے لیجنڈ کھلاڑی نے تلمودی تعلیمات کے مطابق دیوار گریہ کے سامنے "ٹسوے بہا کر” خود کو ایک متنازعہ اور قابل نفرت شخص قرار دیا ہے۔
اقصیٰ فاؤنڈیشن کے چیئرمین زکی اغباریہ نے "بارسلونا” کے چیئرمین سینڈرو روسل کے نام اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ ان کے کلب کی ٹیم کے کچھ کھلاڑی حال ہی میں مقبوضہ فلسطین کےدورے پر آئے جہاں انہوں نے مسجد اقصیٰ کی دیوار براق کے سامنے جمع ہو کر یہودی لباس میں گریہ زاریکی۔ بارسلونا کے کھلاڑیوں کے اس اقدام سے فلسطینی عوام کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے۔ اقصیٰ فاؤنڈیشن بارسلونا کے فٹبالروں کے اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے اور آئندہ اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے ٹھوس اقدامات کا مطالبہ کرتی ہے۔
خیال رہے کہ حال ہی میں فلسطین میں آئے ہسپانوی فٹبال کلب بارسلونا کے کھلاڑیوں میں یہودی مذہبی لباس پہن کر دیوار گریہ میں عبادت کی تھی۔ غیرملکی کھلاڑیوں کے اس اقدام پر فلسطین بھر میں سخت احتجاج کیا جا رہا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
