قابض اسرائیلی فوج نے سنہ 2011ء کے آخرمیں اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” کے ساتھ کیے گئے قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے تحت رہا کیے گئے ایک فلسطینی شہری کو دوبارہ حراست میں لے کرنامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے
مرکزاطلاعات فلسطین کےمطابق اسیران کی بہبود کے لیے سرگرم تنظیم "اسیران کلب” کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں نےسابق اسیر30 سالہ یسری ابراہیم گولانی اور اس کے بھائی انس کو مغربی کنارے کے شہر الخلیل سے حراست میں لے لیا۔ انسانی حقوق گروپ کا کہنا ہے کہ اتوار کوعلی الصباح صہیونی فوجیوں نے الخلیل میں سابق اسیر کی رہائشگاہ پر چھاپہ مارا اور گھرمیں موجود دونوں بھائیوں کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔
اسیران کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ہم لوگ نماز فجرکے بعد اپنے معمول کے کاموں میں مشغول تھے کہ اچانک صہیونی فوجیوں کی بڑی تعداد نے ان کے گھر کا محاصرہ کر لیا۔ محاصرے کے بعد کئی فوجی چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے گھرمیں داخل ہوئے اور بچوں اور خواتین کو زد و کوب کیا۔ قیمتی سامان کی توڑپھوڑ کی اور ابراہیم گولانے کے زیراستعمال موبائل فون اور کمپیوٹر بھی قبضے میں لے لیا۔
خیال رہے کہ دو سال قبل حماس اور اسرائیل کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کا ایک معاہدہ ہوا تھا۔ اس معاہدے میں حماس نے غزہ کی پٹی میں جنگی قیدی بنائے گئے دشمن کے فوجی "گیلاد شالیت” کو اپنے 1050 قیدیوں کے بدلے میں رہا کیا تھا۔ ابراہیم گولانی کی رہائی بھی اسی معاہدے کے تحت عمل میں آئی تھی۔
