فلسطین کی اسرائیل سے مذاکرات کی مخالف بائیں بازو کی سرکردہ جماعت عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین نے خبردار کیا ہے کہ رام اللہ اتھارٹی اسرائیل سے راست مذاکرات کے ذریعے ایک نئے "اوسلو2” سمجھوتے کی راہ ہموار کر رہی ہے۔
جماعت کے ایک مرکزی رہ نما کا کہنا ہے کہ اگر صدرعباس اسرائیل سے کوئی نیا معاہدہ کرتے ہیں تو یہ قوم کے بنیادی حقوق کے حوالے سے ایک بڑا سانحہ ہو گا،کیونکہ سنہ 1994ء میں کیے گئے اوسلو معاہدے میں قوم کے بنیادی حقوق اور مطالبات بلڈوز کر دیے گئے تھے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق عوامی محاذ کی سینٹرل کمیٹی کے رکن جمیل مظہر نے رام اللہ میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن مذاکرات محض ایک بہانہ ہے۔ دراصل فلسطینی اتھارٹی قوم کے دیرینہ مطالبات سے پسپائی اختیار کرتے ہوئے دشمن سے ایک نیا اوسلو معاہدہ کرنے کی راہ ہموار کر رہی ہے۔ اگر ایسا ہوا تو اس سے بڑی تباہی اور کوئی نہیں ہو گی۔
ایک سوال کے جواب میں عوامی محاذ کے لیڈر کا کہنا تھا کہ صہیونی ریاست سے مذاکرات امریکا اور اسرائیل کی شرائط پر ہو رہے ہیں۔ امریکا اور اسرائیل مشرق وسطیٰ میں اپنے تزویراتی مفادات کے لیے فلسطینی کارڈ استعمال کرنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے فلسطینیوں کے بنیادی حقوق کی قیمت ادا کی جا رہی ہے۔
انہوں نے فلسطینی اتھارٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ رام اللہ اتھارٹی کے وہ مطالبات کہاں گئے جن میں مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس میں یہودی آباد کاری روکے جانے پر زور دیا جاتا رہا ہے؟۔ اسرائیل کی جانب سے غیر قانونی یہودی بستیوں کی تعمیر کا سلسلہ تو اب بھی جاری ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
