مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر نابلس کی معروف جامعہ النجاح نیشنل یونیورسٹی میں سیاسیات کے ممتاز پروفیسر ڈاکٹر عبدالستار قاسم نے فلسطینی مزاحمتی تحریکوں بشمول حماس کو ہدایت کی ہے کہ وہ تنظیم آزادی فلسطین سے باہر نکالی گئی تنظیموں کے گمراہ کن عناصر پر تکیہ کرنے سے گریز کریں کیوںکہ ان کا دور ختم ہوچکا ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اطلاعات فلسطین کے نمائندے کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کیا جس کی تفصیل جلد شائع کی جائیگی۔ انہوں نے فلسطینی انتظامیہ اور اسرائیل کے درمیان سیکیورٹی تعاون کے حوالے سے سامنے لائی گئی دستاویزات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ انتظامی اور سیکیورٹی تعاون کرنے والی رام اللہ اتھارٹی سے یہ بات بعید نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ فلسطینی اتھارٹی نے ان دستاویزات کی صداقت سے انکار کیا ہے۔ "مجھے فلسطینی اتھارٹی کی اس بات پر یقین نہیں ہے۔ کیوںکہ اسرائیل کے ساتھ تعاون کرنے والا اپنے ملک اور عوام کے ساتھ مخلص نہیں ہوسکتا۔”
معروف فلسطینی تجزیہ نگار کا کہنا تھا کہ سامنے لائی گئی دستاویزات کا فلسطینی مصالحتی عمل پر کوئی اثر نہیں ہوگا کیوںکہ مزاحمت کا راستہ اور اسرائیل کے ساتھ سیکیورٹی تعاون دو متضاد چیزیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خفیہ مذاکرات کا طاقتور صیہونی دشمن کے علاوہ کسی کو فائدہ نہیں کیونکہ وہ میڈیا سے ہٹ کر بڑی آسانی سے اپنے کمزور مد مقابل فلسطینیوں کو ڈرانے دھمکانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل ان مذاکرات کے بارے میں تمام باتوں سے اپنے عوام کو باخبر رکھے ہوئے ہے جبکہ ہمارے فلسطینی عوام کو 1991 سے لے کر اب تک خفیہ لابیوں میں ہونے والی کسی بھی بات چیت کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
