اسرائیل کی انتہا پسند تنظیموں نے ایک دستاویزی فلم تیار کی ہے جس میں مسجد اقصٰی کے تاریخی حقائق کو مسخ کرکے قبلہ اول کی جگہ مذموم ہیکل سلیمانی کے حوالے سے من گھڑت معلومات فراہم کرنے کی سازش کی گئی ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کےمطابق مسجد اقصیٰ کی تعمیرو مرمت کی ذمہ دار تنظیم”الاقصیٰ فاؤنڈیشن و ٹرسٹ” شرپسند یہودیوں کی جانب سے تیار کردہ دستاویزی فلم میں مسجد اقصیٰ کے بارے میں من گھڑت معلومات، یہودیوں کو ہیکل سلیمانی کی ترغیب کے ساتھ ساتھ یہ دعویٰ کیا گیا ہےکہ ہیکل سلیمانی کا اصل مقام مسجد اقصیٰ ہی ہے۔ اسی کی بنیادوں پر یہ مذہبی مرکز تعمیر کیا جائےگا۔
زمانی اعتبار سے بھی یہ فلم اس لیے اہمیت کی حامل ہے کیونکہ یہ ایک ایسے وقت میں منظرعام پرآئی ہے جب یہودی دنیا بھربالخصوص مقبوضہ عرب علاقوں میں "ہیکل سلیمانی” کی تباہی کی یاد میں سالانہ تقریبات منعقد کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق دستاویزی فلم کا ایک بڑا حصہ مسجد اقصیٰ کے تاریخی اسلامی آثار بارے غلط بیانی پر مشتمل ہے۔ اقصیٰ فاؤنڈیشن نے فلم پرتبصرہ کرتے ہوئے اسے قبلہ اول کے حوالے سے جدید نوعیت کی شرمناک سازش سے تعبیر کیا ہے۔ دستاویزی فلم میں اسرائیل کے انتہا پسند مذہبی سیاست دانوں کے بیانات بھی پیش کیےگئے ہیں،جن میں انہیں مسجد اقصیٰ کی جگہ ہیکل سلیمانی کی تعمیر کی دعوت دیتے دکھایا گیا ہے۔ ان اہم شخصیات میں وزیربرائے آباد کاری و تعمیرات "اورے آرئیل” پیش ہیں جو کئی مرتبہ انتہا پسند یہودی گروپوں کے ہمراہ مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کر چکے ہیں۔
أعلى الصفحة
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
