تنظیم آزادی فلسطین کی موجودہ قیادت کے حوالے سے صدر محمود عباس کی جماعت الفتح کی مرکزی قیادت میں بھی سخت اختلافات سامنے آئے ہیں۔ پارٹی کی ایک سرکردہ خاتون رہ نما اور مجلس قانون ساز کی رکن نجات ابوبکر کا کہنا ہے کہ ایک مخصوص گروپ نے تنظیم آزادی فلسطین”پی ایل او” کو یرغمال بنا لیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حال ہی میں رام اللہ میں پی ایل او کے ہیڈ کواٹرمیں الفتح کے اسرائیلیوں کے ساتھ خفیہ مذاکرات رام اللہ اتھارٹی اور صدر محمود عباس کے ایماء پر ہوئے تھے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق نجات ابوبکر نے رام اللہ میں "پی ایل او” کے ہیڈ کواٹر کے باہر ایک احتجاجی مظاہرے سے خطاب میں الفتح کی قیادت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں پی ایل او کے ہیڈ کواٹر میں الفتح اور اسرائیلی حکمراں جماعتوں”شاس” اور لیکوڈ کی قیادت کے درمیان بات چیت صدرمحمود عباس کے علم میں تھی۔
مسز نجات نے الزام عائد کیا کہ ایک مخصوص گروپ نے تنظیم آزادی فلسطین کویرغمال بنا لیا ہے اور وہ تنظیم کو اپنے مخصوص مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ عوام اپنے نمائندے ادارے کو کسی صورت میں بھی یرغمال نہیں ہونے دیں گے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
